1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

جرمنی میں مہاجرین کے باعث سکیورٹی خطرات کے کوئی آثار نہیں

جرمنی میں سال رواں کے دوران لاکھوں غیر ملکی پناہ گزینوں کی آمد کے باوجود اس امر کے کوئی آثار نہیں کہ یہ مہاجرین ملکی سلامتی کے لیے خطرہ ثابت ہو سکتے ہیں یا وہ کوئی مسلح حملے کر سکتے ہیں۔

وفاقی دارالحکومت برلن سے منگل سترہ نومبر کے روز موصولہ نیوز ایجنسی روئٹرز کی رپورٹوں کے مطابق اب تک ایسے کوئی اشارے نہیں ملے کہ جرمنی پہنچنے والے مہاجرین کے بھیس میں ایسے ممکنہ عسکریت پسند بھی ملک میں داخل ہو چکے ہوں جو جرمن سرزمین پر کوئی دہشت گردانہ کارروائیاں کر سکتے ہیں۔

جرمنی میں جرائم کی تحقیقات کرنے والے وفاقی ادارے BKA کے سربراہ ہولگر میونش نے جریدے ’دی وَیلٹ‘ کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا کہ پیرس میں حالیہ دہشت گردانہ حملوں کے بعد جرمنی میں اس بارے میں عوامی تشویش ممکن ہے کہ برلن حکومت کی مہاجرین سے متعلق ’کھلے دروازے‘ کی پالیسی ایک ’سکیورٹی رِسک‘ ثابت ہو سکتی ہے۔

تاہم ہولگر میونش Holger Muench نے کہا کہ بنیاد پسندانہ سوچ رکھنے والے اسلام پسندوں نے مغربی اہداف کو اپنی نظروں میں رکھا ہوا ہے، اس لیے اصولی طور پر جرمنی میں دہشت گردانہ حملوں کا امکان اپنی جگہ موجود ہے۔ لیکن بی کے اے کے صدر نے یہ بھی کہا کہ ایسے کوئی آثار نہیں ہیں کہ جرمنی میں ایسا کوئی حملہ فوری طور پر اور عین ممکن ہے۔

انہوں نے اخبار ’دی وَیلٹ‘ کو بتایا، ’’اس خطرے کی سطح کو بہت سنجیدگی سے لیا جانا چاہیے۔ لیکن ہمیں ابھی تک ایسے کوئی آثار یا عمومی اشارے نہیں ملے، جن کے مطابق جرمنی میں ایسے کسی حملے کی منصوبہ بندی کی گئی ہو۔‘‘ ہولگر میونش کے مطابق، ’’ابھی تک ہمیں ایسی کوئی خفیہ اطلاع یا شواہد نہیں ملے کہ جرمنی میں بظاہر کسی پناہ گزین کے روپ میں لیکن مسلح حملوں کی نیت سے کوئی دہشت گرد بھی داخل ہوا ہو۔‘‘

فیڈرل کریمینل آفس کے صدر میونش نے مزید بتایا کہ اس وقت تارکین وطن کے طور پر جرمنی میں داخل ہونے والے 10 ایسے غیر ملکیوں کے خلاف تحقیقات کی جا رہی ہیں، جن کے بارے میں شبہ ہے کہ وہ ممکنہ طور پر جہادی یا جنگی مجرم ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان تارکین وطن کے خلاف چھان بین زیادہ تر دیگر مہاجرین کی طرف سے ملنے والی اطلاعات کے بعد شروع کی گئی۔

Holger Münch 19.11.2014

جرائم کی تحقیقات کرنے والے وفاقی جرمن ادارے BKA کے سربراہ ہولگر میونش

روئٹرز کی رپورٹوں کے مطابق فرانسیسی دارالحکومت پیرس میں گزشتہ جمعے کے روز متعدد دہشت گردوں کی خود کش حملوں اور فائرنگ کی صورت میں مختلف مقامات پر کی جانے والی مربوط مسلح کارروائیوں کے نتیجے میں کم از کم 129 افراد کی ہلاکت کے بعد اس بارے میں خدشات میں قدرے اضافہ ہوا ہے کہ جرمنی کے لیے اس کی ’شام سے آنے والے مہاجرین کے لیے اپنے دروازے کھلے رکھنے کی پالیسی‘ خطرناک ثابت ہو سکتی ہے اور یہی بات پورے یورپ کے لیے بھی سکیورٹی خطرات کا سبب بن سکتی ہے۔

شام اور عراق کے وسیع تر علاقوں پر قابض عسکریت پسند تنظیم اسلامک اسٹیٹ یا داعش پیرس میں حالیہ دہشت گردانہ حملوں کی ذمے داری قبول کر چکی ہے۔

DW.COM