1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

جرمنی میں مہاجرین کی آمد، بے گھری میں اضافے کا سبب

جرمنی میں  بے گھر افراد کے لیے کام کرنے والے ایک ادارے نے کہا ہے کہ ملک میں بے گھر افراد کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق سن 2018 تک ایک اعشاریہ دو ملین افراد ممکنہ طور پر عارضی پناہ گاہوں میں رہیں گے۔

جرمن ادارے کی یہ رپورٹ ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ملک میں غربت کی شرح میں اضافے اور ایک اعشاریہ ایک ملین مہاجرین کو جرمن سماج میں ضم کرنے کی صلاحیت کے حوالے سے خدشات بڑھتے جا رہے ہیں۔

جرمن ادارے ’ہوم لیس نیس ایسوسی ایشن‘ کے مطابق ملک میں سن دو ہزار سولہ میں آٹھ لاکھ پچاس ہزار سے زائد افراد بے گھر تھے اور یہ تعداد سن دو ہزار چودہ کے مقابلے میں ایک سو پچاس فیصد زیادہ تھی۔ بے گھری سے متاثر افراد کی نصف تعداد پناہ گزینوں کی تھی۔

بے گھر افراد کے لیے سرگرم اس جرمن گروپ نے اپنی رپورٹ میں یہ بھی تحریر کیا ہے کہ سن دو ہزار سولہ میں 52،000 افراد سڑکوں پر رہنے پر مجبور تھے اور یہ تعداد بھی سن دو ہزار چودہ کے مقابلے میں ایک تہائی زیادہ تھی۔ گروپ کے مطابق شیلٹرز میں رہنے والے افراد کی تعداد سن دو ہزار اٹھارہ تک ممکن ہے کہ چالیس فیصد تک مزید بڑھ جائے۔ اس تعداد میں اضافے کے اسباب میں بڑھتے ہوئے کرایے، معاون ہاؤسنگ اسکیموں کی کمی اور مہاجرین کو پناہ گزین کی حیثیت دینا ہے جس کے بعد وہ گھر لینے کے حق دار ہو جاتے ہیں۔

جرمن ادارے نے اپنی رپورٹ میں مہاجرین کی آمد کو گھروں کی کمیابی کا ایک  پہلو قرار دیا ہے لیکن اس کے ساتھ ہی حکومت کی ’ناکام‘ ہاؤسنگ پالیسیوں کو بھی اس کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔

دوسری جانب جرمنی کے وفاقی ادارے برائے شماریات نے گزشتہ ہفتے رپورٹ کیا تھا کہ سن دو ہزار سولہ میں جرمن آبادی کا بیس فیصد یعنی قریب سولہ ملین افراد غربت کے خطرے سے دو چار تھے۔

جرمن وزارت برائے محنت اور سماجی امور نے مہاجرین کی رہائش کے مسئلے سے نمٹنے کے حوالے سے اپنا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ جرمنی میں انفرادی رہائش کا حصول ایک چیلنج رہا ہے۔ 

DW.COM