1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

جرمنی میں مہاجرین پر سالانہ 60 ارب ڈالر خرچہ، ماہرین

ماہرین معاشیات کا اندازہ ہے کہ جرمنی میں آنے والے دس لاکھ سے زائد مہاجرین کو پناہ دینے کے باعث جرمن حکومت کو سالانہ ساٹھ بلین ڈالر اخراجات برداشت کرنا پڑیں گے اور جرمن معیشت پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔

یہ اعداد و شمار معاشیات پر جرمنی کے سب سے مستند تحقیقی ادارے، ’کیِل انسٹیٹیوٹ فار ورلڈ اکنامکس‘ (آئی ایف ڈبلیو) کی جانب سے جاری کیے گئے ہیں۔ ماہرین نے اس پیش گوئی کی ہے کہ آئندہ برسوں کے دوران تارکین وطن پر پچیس اور پچپن بلین یورو کے درمیان اخراجات برداشت کرنا پڑیں گے۔

تحقیق کے مصنف ماتھیاس لیوکے نے مہاجرین کی تعداد اور ان کے جرمن روزگار کی منڈیوں میں انضمام کی رفتار کے حوالے سے دیے گئے اعداد و شمار کے غیر حتمی اور غیر یقینی ہونے کا اعتراف بھی کیا ہے۔

لیوکے کا کہنا ہے کہ اگرچہ تحقیق میں پیش کیے گئے اخراجات بہت بھاری ہیں، تاہم یہ رقم مجموعی قومی پیدوار کے دو فیصد سے کم ہونے کے باعث قابل برداشت سمجھی جا سکتی ہے۔

ادارے کے محققین نے یہ پیش گوئی بھی کی ہے کہ 2018ء کے بعد جرمنی آنے والے تارکین وطن کی سالانہ تعداد اس سال کی تعداد، یعنی دس لاکھ سے کم ہو کر 360000 ہو جائے گی۔ تعداد میں کمی کے بعد سالانہ اخراجات بھی کم ہو کر پچیس بلین یورو ہو جائیں گے۔

تحقیق کی بنیاد اس مفروضے پر رکھی گئی ہے کہ جرمنی آنے والے پناہ گزینوں میں سے تیس فیصد اپنے وطن واپس لوٹ جائیں گے اور بیس فیصد افراد کو نوکری تلاش کرنے میں دشواری پیش آئے گی۔

اس سے قبل سامنے والے دیگر تحقیقی جائزوں کے برعکس اس تحقیق میں یہ بتایا گیا ہے کہ مہاجرین کی آمد سے جرمنی کی معیشت پر کوئی مثبت اثرات مرتب نہیں ہوں گے۔ ماہرین کے مطابق معاشی طلب میں اضافہ کے ساتھ ساتھ معاشرتی اخراجات میں بھی اضافہ ہونے کا امکان ہے۔

دوسرے ماہرین کی رائے میں شام اور دیگر شورش زدہ ممالک سے جرمنی آنے والے مہاجرین کی اکثریت چونکہ نوجوانوں کی ہے، جب کہ جرمن شہریوں کی اوسط عمر میں اضافہ ہو رہا ہے، اس لیے تارکین وطن کی آمد سے جرمنی کی معیشت کو فائدہ پہنچے گا۔

DW.COM

ملتے جلتے مندرجات