1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

جرمنی میں مہاجرین پر خرچے کی وجہ سے اقتصادی تیزی

جرمنی میں گزشتہ برس ٹیکسوں کی وصولی اور ملازمتوں میں اضافے کی وجہ سے حکومتی قرضوں میں کمی دیکھی گئی۔ اسی تناظر میں جرمنی میں رواں برس بہتر اقتصادی ترقی کے لیے راستہ ہم وار ہے۔

جرمنی گزشتہ تین برسوں سے حکومتی قرضوں میں کمی کرتا جا رہا ہے اور سن 1990ء میں مشرقی اور مغربی جرمنی کے اتحاد کے بعد سے یہ پہلا موقع ہے کہ یہ فرق 23 اعشاریہ سات ارب یورو تک پہنچ گیا ہے۔

جرمنی کے وفاقی دفتر برائے شماریات کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ اس ترقی کی ایک وجہ جرمنی پہنچنے والے وہ ایک ملین مہاجرین بھی ہیں، جن کی وجہ سے معاشی تیزی آئی۔ دفتر برائے شماریات کا کہنا ہے کہ جرمنی میں ریاستی سطح پر مہاجرین کے لیے اخراجات بھی گزشتہ برس ایک اعشاریہ نو فیصد کی اقتصادی ترقی کی وجہ بنے۔

جرمنی کے بجٹ قانون کے تحت سات اعشاریہ سات ارب یورو کا حکومتی سرپلس مہاجرین سے متعلق اخراجات میں خرچ ہو سکتا ہے۔ گزشتہ برس جرمن اقتصادیات میں حالیہ نصف دہائی کی سب سے زیادہ ترقی ہوئی۔ جرمن وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ انفرادی اور عوامی شعبے میں زیادہ اخراجات سے رواں برس مجموعی قومی پیداواری کھپت بڑھے گی۔

Griechenland Insel Kos - pakistanische Flüchtlinge (picture-alliance/AP Photo/T. Stavrakis)

جرمنی میں ایک ملین سے زائد مہاجرین پہنچے

جرمنی حکومتی اعداد وشمار میں کہا جا رہا ہے کہ رواں برس ملکی ترقی کی شرح ایک اعشاریہ چار تک ہو سکتی ہے۔ وزارت خزانہ کی جانب سے جاری کردہ ماہانہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جرمن اقتصادی ترقی ایک مضبوط راستے پر ہے۔

اس رپورٹ کے مطابق پیداوری طلب بدستور اس اقتصادی تیزی میں کلیدی کردار ادا کرے گی۔ بیان میں کہا گیا ہےکہ ملک میں کم شرح سود اور توانائی کی قیمتوں ساتھ ساتھ ملازمتوں کے مواقع اور تنخواہوں میں بھی اضافہ متوقع ہے۔

وزارت خارجہ کی یہ رپورٹ بدھ کے روز آئی ایف او کے ان انڈیکس کی بھی گمک ہے، جس میں بتایا گیا تھا کہ جرمنی میں کاروباری اداروں کے اعتماد میں اضافہ ہوا ہے، جس کی وجہ سے امریکی تجارتی پالیسیوں اور فرانسیسی انتخابات کے نتائج کے حوالے سے شکوک و شبہات کے باوجود جرمن اقتصادی ترقی مستحکم ہے۔