1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

جرمنی میں مہاجرین سے متعلق پالیسی میں سختی پر اتفاق

جرمن حکومت میں شامل اتحادی جماعتیں مہاجرین کی بڑے پیمانے پر ملک میں آمد کو روکنے کی خاطر اپنی پالیسیاں سخت بنانے پر متفق ہو گئی ہیں۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق جرمن مخلوط حکومت میں شامل سیاسی پارٹیاں پناہ دینے سے متعلق اپنی پالیسیوں میں سختی لانے پر تیار ہو گئی ہیں تاکہ مہاجرین کی بڑی تعداد کو جرمنی میں داخل ہونے سے روکا جا سکا۔

DW.COM

اس نئی پالیسی کے تحت شمالی افریقہ سے جرمنی پہنچنے والے مہاجرین کو واپس بھیجا جا سکے گا جبکہ جرمنی میں موجود مہاجرین کی ’فیملی ری یونین‘ میں بھی تاخیر ممکن بنائی جا سکے گی۔

سوشل ڈیموکریٹ سیاستدان اور نائب چانسلر زیگمار گابریئل نے کرسچن ڈیموکریٹ چانسلر انگیلا میرکل اور باویریا کی کرسچن سوشل یونین کے سربراہ ہورسٹ زیہوفر کے ساتھ ملاقات کے بعد کہا کہ اس نئی پالیسی کا مقصد جرمنی میں بڑے پیمانے پر مہاجرین کی آمد کو روکنا ہے۔ یہ امر اہم ہے کہ جرمنی کی موجودہ مخلوط حکومت میں یہی تین سیاسی جماعتیں شامل ہیں۔

نئے مجوزہ قواعد کے مطابق جرمنی میں موجود کچھ مہاجرین کو کم از کم دو سال تک اپنی کنبوں کو جرمنی لانے کی اجازت نہیں ہو گی۔ اسی طرح برلن حکومت کو اختیار حاصل ہو جائے گا کہ وہ شمالی افریقی ممالک سے آنے والے مہاجرین کو واپس بھیج دے۔

زیگمار گابریئل کے مطابق نئے قواعد کے تحت الجزائر، مراکش اور تیونس کو بھی ’محفوظ ممالک کا درجہ‘ دے دیا جائے گا۔ اس کا مطلب یہ ہو گا کہ ان ممالک سے تعلق رکھنے والے افراد کے جرمنی میں پناہ حاصل کرنے کے امکانات انتہائی کم ہو جائیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان قواعد کے حوالے سے مختلف اقدامات زیر غور ہیں اور انہیں کسی بھی وقت منظوری کے لیے وفاقی کابینہ میں پیش کیا جا سکتا ہے۔

برلن حکومت کو امید ہے کہ ان اقدامات کے باعث بالخصوص شمالی افریقہ سے بڑی تعداد میں جرمنی پہنچنے والے مہاجرین کی آمد کو روکنے میں مدد مل سکے گی۔ جرمن حکومت پہلے ہی البانیا، مونٹی نیگرو اور کوسووو کو ’محفوظ ممالک کا درجہ‘ دے چکی ہے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ حالیہ مہینوں کے دوران ان ممالک سے بھی ہزاروں افراد پناہ کی خاطر جرمنی پہنچ چکے ہیں۔

Deutschland Regierungskoalition Seehofer Merkel und Gabriel Symbolbild

نائب چانسلر زیگمار گابریئل، چانسلر انگیلا میرکل اور باویریا کی کرسچن سوشل یونین کے سربراہ ہورسٹ زیہوفر

سال نو کے موقع پر کولون میں خواتین کے خلاف جنسی حملوں کے بعد سے حکومت پر دباؤ بڑھ گیا ہے کہ وہ شمالی افریقہ سے جرمنی آنے والے مہاجرین پر پابندی عائد کرے۔

پولیس کے مطابق ان حملوں میں ملوث افراد زیادہ تر الجزائر اور مراکش کے باشندے تھے۔ جرمنی اس کوشش میں بھی ہے کہ یہ دونوں ممالک ایسے افراد کی واپسی کے عمل کو یقینی بنائیں، جن کی جرمنی میں پناہ کی درخواستیں مسترد ہو چکی ہیں۔