1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

جرمنی میں مسلم فیشن دوکانوں کا تعلق شدت پسندوں کے ساتھ؟

جرمنی میں حجابی دوکانیں اس وقت شہ سرخیوں میں ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ ان کا تعلق شدت پسندوں کے ساتھ ہے۔ کپڑے کے ایک ٹکڑے کے ذریعے ایک ایسی ثانوی ثقافت پیدا کی جا رہی ہے، جو مرد کی افضلیت اور شدت پسندی کے فروغ کا باعث ہے۔

فرینکفرٹ کے مرکز میں حجابی اسٹورز موجود ہیں، جہاں نقاب، برقعے اور مسلم خواتین کے لیے چہرہ ڈھانپنے سے متعلق دیگر اشیاء فروخت کی جاتی ہیں۔ اس دکان میں مسلم خواتین کو مختلف طرز کے ’اسلامی لباس‘ فروخت کے لیے پیش کیے جاتے ہیں اور یہ لباس اس کمپنی کی ویب سائٹ پر بھی ملتے ہیں۔ ان ملبوسات میں لمبے اور ڈھیلے ڈھالے کپڑے شامل ہیں، جن میں اوپر کو اٹھے ہوئے کالر ہیں، جب کہ یہ کتھئی، سبز اور دیگر رنگوں میں دستیاب ہیں۔ اس دکان میں برقعوں کے علاوہ چہرے کو چھپانے والے نقانوں میں اندر کی جانب موجود وہ پنز بھی ہیں، جو نقاب کو چہرے پر روکے رکھتی ہیں۔

ان دوکانوں کے مالکان سے ڈی ڈبلیو نے بات چیت کی کوشش کی، تاہم کسی بھی دکان کے مالک نے اس سلسلے میں انٹرویو کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔

جرمنی میں بروکنگز انسٹیٹیوٹ کے مطابق، ’سلفیت‘ اس طرز کا خاکہ پیش کرتی ہے کہ جیسے وہی ایک درست اسلام ہو اور اس کے ذریعے جرمنی اور یورپ میں نئی مسلمان نسل کا ذہن پراگندہ کیا جا رہا ہے۔‘‘

Deutschland Hijabi online Store Hoor Al Ayn

حجابی دکانیں اب آن لائن بھی شروع کی جا چکی ہیں

جرمنی میں گزشتہ دس پندرہ برسوں میں اس طرز کی دکانوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ فرینکفرٹ یونیورسٹی کے اسلامی شدت پسندی سے متعلق شعبے سے وابستہ سوزانے شُرؤٹر کے مطابق، ’’ہم دیکھ سکتے ہیں کہ اب اس طرز کے لباس پہننے والی خواتین کی تعداد میں قدرے اضافہ ہوا ہے۔ فرینکفرٹ میں یہ حجابی دکان ایک طرف تو سلفیوں کی ثقافت کی نمائندہ ہے جب کہ دوسری طرف یہ بتاتی ہے کہ سلفی ازم ایک سیاسی اور مذہبی تحریک نہیں بلکہ ایک طرزِ زندگی بھی ہے۔ ایسے افراد جو اس طرز کی اسلامی تشریحات پر عمل کرتے ہیں اپنی پوری زندگی انہیں تشریحات کے تحت گزارنے کی کوشش کرتے ہیں۔‘‘

یہ بات اہم ہے کہ جرمنی میں شدت پسندی کے لحاظ سے سلفی تحریک پیش پیش رہی ہے اور شام میں اسلامک اسٹیٹ کے ساتھ مل کر لڑنے والے جرمن جنگجوؤں میں اسی تحریک سے وابستہ افراد زیادہ دیکھے گئے ہیں۔