1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جرمنی میں مسلح حملے، تفتیش میں تعاون جاری: فیس بک انتظامیہ

سوشل نیٹ ورکنگ ویب سائٹ فیس بک کی انتظامیہ نے جرمن حکام کی شکایات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ جرمنی میں ہونے والے حالیہ مسلح حملوں کی چھان بین کے سلسلے میں حکام سے تعاون پورا کر رہی ہے۔

جرمن دارالحکومت برلن سے پیر آٹھ اگست کو ملنے والی نیوز ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹوں میں بتایا گیا ہے کہ فیس بک کی انتظامیہ نے جرمن حکام سے یہ مطالبہ بھی کیا ہے کہ وہ مختلف تفتیشی معاملات میں اس ادارے کی طرف سے جو تعاون چاہتے ہیں، انہیں اس تعاون سے متعلق فیس بک کو اپنی درخواستیں بھی زیادہ بہتر اور واضح انداز میں دینا چاہییں۔

جولائی کے آخر میں جرمنی میں یکے بعد دیگرے جو متعدد خونریز حملے دیکھنے میں آئے تھے، ان کے بعد کئی جرمن صوبوں کے حکام نے فیس بک سمیت مختلف سوشل میڈیا ویب سائٹس کے حوالے سے مطالبہ کیا تھا کہ ان اداروں کو اس امر کا پابند بنایا جانا چاہیے کہ وہ ایسے حملوں سے متعلق مشتبہ صارفین کا ڈیٹا جلد از جلد حکام کے حوالے کر دیا کریں۔

اس بارے میں جرمن اخبار ’وَیلٹ اَم زَونٹاگ‘ میں اتوار سات اگست کو شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق جرمن سکیورٹی اہلکاروں کو یہ شکایت ہے کہ مثال کے طور پر فیس بک نے گزشتہ تین برسوں کے دوران جرمن اہلکاروں کی مشتبہ صارفین سے متعلق معلومات کی فراہمی کی صرف 37 فیصد درخواستوں پر کامیابی سے عمل کیا جب کہ باقی ماندہ 63 فیصد درخواستوں پر کوئی کارروائی نہ کی گئی۔

اس بارے میں فیس بک کی طرف سے پیر آٹھ اگست کو جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا، ’’فیس بک کا ادارہ جرمنی اور دیگر ملکوں کے سکیورٹی حکام کے ساتھ مکمل تعاون کا تہیہ کیے ہوئے ہے۔‘‘

Deutschland München nach dem Amoklauf Trauernde

جرمنی میں جولائی کے دوسرے نصف حصے میں یکے بعد دیگرے متعدد خونریز حملے کیے گئے، جن میں سے چند کی ذمے داری دہشت گرد گروہ داعش نے قبول کر لی تھی

اس بیان میں کہا گیا ہے، ’’فیس بک نے دہشت گردی کو اس کی کسی بھی شکل میں برداشت نہ کرنے کی پالیسی اپنا رکھی ہے۔ ہم جرمنی میں دہشت گردی کا مقابلہ کرنے والے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ آج تک اپنا تعاون جاری رکھے ہوئے ہیں، جو آئندہ بھی جاری رہے گا۔‘‘

تاہم فیس بک نے اپنے بیان میں یہ بھی کہا، ’’کبھی کبھی سکیورٹی حکام کے ساتھ مل کر کام کرنے کا مطلب یہ بھی ہوتا ہے کہ انہیں مطلوبہ معلومات اتنی جلد مہیا کی جائیں کہ ان کی مدد سے ممکنہ دہشت گردانہ حملوں کو روکنے سمیت ہر طرح کی ہنگامی صورت حال کا مقابلہ کیا جا سکے۔ تاہم اس کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ جرمن حکام بھی فیس بک کو واضح طور پر بتائیں کہ انہیں کس طرح کی معلومات درکار ہیں۔‘‘

فیس بک کی انتظامیہ نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ جرمن پولیس حکام کے ساتھ اس بارے میں بھی تعاون کی خواہش مند ہے کہ جرمن اہلکاروں کو اس امر کی باقاعدہ تربیت بھی دی جا سکے کہ وہ اس سوشل نیٹ ورکنگ ویب سائٹ سے کون سے معلومات کس طرح طلب کر سکتے ہیں اور اس مقصد کے لیے درخواستیں کس طرح دی جانا چاہییں۔

DW.COM