1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

جرمنی میں مایوس تارکینِ وطن جسم فروشی پر مجبور

جرمنی کی بعض غیر سرکاری تنظیموں کا دعویٰ ہے کہ جرمنی میں تارکینِ وطن کی ایک مخصوص تعداد گزر بسر کے لیے بڑی عمر کے مردوں سے جسمانی تعلقات استوار کرنے پر مجبور ہے۔

Deutschland unbegleitete minderjährige Ausländer in Karlsruhe (picture-alliance/dpa/U. Deck)

جسم فروشی کا کام کرنے والے ان مہاجرین کی عمر عام طور پر سولہ سے پچیس سال کے درمیان پائی گئی ہے

مہاجرین کے بحران کے حوالے سے لمحہ بہ لمحہ باخبر رکھنے والی یورپی ویب سائٹ’ انفو امیگرانٹ‘ نے جسم فروشی کے مبینہ المناک رحجان پر جرمن این جی اوز سے مزید جاننے کی کوشش کی۔

اس تناظر میں ایک سولہ سالہ شامی فلسطینی مہاجر کے ساتھ پیش آنے والے واقعات کے بارے میں برلن میں پناہ گزینوں کے لیے کام کرنے والی ایک این جی او ’موآبٹ ہلفٹ‘ کی ڈیانا ہینیگز نے ’انفو امیگرانٹ‘ کو بتایا۔

یہ  نوجوان سن 2015 میں ترکِ وطن کر کے جرمنی پہنچا تھا۔ اسے امید تھی کہ جلد یا دیر سے  وہ اپنے خاندان خصوصاﹰ اپنی آٹھ سالہ بہن کو بھی یہاں بلا سکے گا۔ اُس کا خاندان تو اب تک دمشق میں ہی ہے تاہم اب یہ نوجوان برلن میں رہتا ہے۔

جرمنی پہنچنے پر اس نوجوان کی عمر 18 سال سے کم تھی اس لیے اسے متعلقہ جرمن دفتر کی طرف سے تحفظ بھی دیا گیا اور پناہ بھی۔ تاہم جیسے ہی وہ اٹھارہ برس کا ہوا، اسے بچوں کے لیے مختص ہوسٹل چھوڑنا پڑا۔ اس نوجوان کو برلن میں دیگر درجنوں تارکینِ وطن کی طرح ایک اسکول کی عمارت میں رہنا پڑا جہاں نہ تو کوئی سکیورٹی اہلکار تھے اور نہ ہی مہاجرین کی مدد کے لیے سماجی کارکنان موجود تھے۔ وہاں موجود اسی کے ہم عمر کچھ لڑکوں نے کئی بار اسے ڈرایا دھمکایا اور مارا پیٹا۔

 یہ نوجوان ڈی پورٹ نہیں ہونا چاہتا تھا کیونکہ اس کو صرف ایک سال کی عارضی پناہ دی گئی تھی۔ اس نے وہ رہائشگاہ چھوڑی اور غائب ہو گیا۔ چونکہ اب اُس کے پاس کوئی صحیح ایڈریس نہیں تھا اس لیے اسے جرمن حکومت کی طرف سے ملنے والی امدادی رقم بھی نہیں مل سکتی تھی۔ یہاں سے یہ نوجوان منشیات اور جسم فروشی کی دنیا میں داخل ہوا اور اُسے رہنے کی جگہ کے بدلے ایک بڑی عمر کے شخص سے جسمانی تعلق قائم کرنا پڑا۔

 یہ اُن مہاجرین کے حوالے سے صرف ایک مثال ہے جنہیں جرمنی میں پیش آنے والے مشکل حالات کے سبب جسم فروشی پر مجبور ہونا پڑا۔ ایسے مشاہدات سامنے آئے ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ جرمنی میں  پاکستان، شام، ایران اور عراق سے تعلق رکھنے والے نوجوان تارکینِ وطن میں جسم فروشی کے رجحان میں اضافہ ہوا ہے۔ جسم فروشی کا کام کرنے والے ان مہاجرین کی عمر عام طور پر سولہ سے پچیس سال کے درمیان اور بعض صورتوں میں 35 سال تک بھی پائی گئی ہے۔

 بہت سے کم عمر مہاجرین والدین یا سرپرست کے بغیر جرمنی آئے۔ ہینیگز کے مطابق،’’ اٹھارہ سال عمر ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ بچہ بالغ ہو گیا ہے اور یہی بات حکومت بھول جاتی ہے۔‘‘ نوجوان تارکینِ وطن جنسی کاروبار میں کس طرح ملوث ہو جاتے ہیں، یہ اُن کی تعلیم کی سطح اور سیاسی پناہ کی حیثیت پر بھی منحصر ہے۔ علاوہ ازیں منشیات کی عادت اور بے گھری جیسے عوامل کا بھی خاصا کردار ہو سکتا ہے۔

 برلن میں نوجوانوں کی مدد کے لیے قائم ایک تنظیم’ ہلفے فیور  یُنگز‘ کے سربراہ رالف روئٹن نے انفو امیگرانٹ سے بات کرتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی کہ متعدد کم عمر تارکینِ وطن نے پیسوں کے لیے جسم فروشی کی۔ روئٹن کے سماجی کارکنوں نے ایسے افراد سے برلن میں ملاقات کی اور اُنہیں ایڈز اور دیگر جنسی بیماریوں کے بارے میں رہنمائی بھی فراہم کی۔ ان میں زیادہ تر مہاجرین بیس کے سِن میں تھے اور اُن کا تعلق شام، عراق اور دیگر عرب ممالک سے تھا۔

 گزشتہ  ہفتے ہی  ہارورڈ یونیورسٹی نے یورپ میں پناہ کے متلاشی نابالغ بچوں کے جنسی استحصال سے متعلق اپنی ایک رپورٹ جاری کی تھی ۔ اس رپورٹ کی شریک مصنفہ پروفیسر جیکولین بھابھا کے مطابق اس خوفناک صورت حال کی ذمہ داری مہاجرین کے بحران کے ذمہ دار تمام فریقین پر عائد ہوتی ہے۔

DW.COM