1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

جرمنی میں لازمی فوجی مدت میں کمی

جرمنی میں نوجوانوں کے لازمی فوجی سروس کی مدت میں کمی کر دی گئی ہے۔ حکومت کے اس فیصلے فلاحی اور سماجی ادارے کافی پریشان ہیں۔

default

جرمنی میں لازمی فوجی سروس سے انکار کرنے والے نوجوانوں کو متبادل سروس کے طور پرکسی نجی ادارے میں چند ماہ کے لئے کام کرنا پڑتا ہے۔ اسے سول سروس کا نام دیا جاتا ہے۔ اس وقت ستر ہزار نوجوان یہی سروس انجام دے رہے ہیں۔ وہ زیادہ تر ہسپتالوں اور معذور اور بوڑھے افراد کے ہوسٹلز میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ جرمنی کی نئی حکومت نے لازمی فوجی سروس کی مدت کو نو سے کم کر کے چھ ماہ کر دیا ہے۔ اس کے نتیجے میں متبادل سول سروس کی مدت بھی کم ہونےکا امکان ہے۔ تا ہم جو امدادی تنظیمیں اور فلاحی ادارے سول سروس انجام دینے والے نوجوانوں کی خدمات سے فائدہ اٹھا رہے تھے، وہ حکومت کے اس فیصلے پر بہت پریشان ہیں۔

گابریئیلے تھیویسنThivissen کا تعلق ریڈ کراس سے ہے۔ وہ وہاں لازمی فوجی سروس کے متبادل کے طور پر سول خدمات کے لئے آنے والے نوجوانوں کے امور سے متعلقہ شعبے سے منسلک ہیں۔ وہ لازمی فوجی سروس کی مدت میں کمی کے حکومتی فیصلے سے خوش نہیں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر حکومت اپنے اس فیصلے پر قائم رہتی ہے، اور یہ قانون بنا دیا جاتا ہے، تو اس کے بہت برے اثرات مرتب ہوں گے۔

ریڈ کراس کا شمار بھی ان اداروں میں ہوتا ہے، جوسول سروس انجام دینے والے نوجوانوں کی خدمات سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ گابریئیلے کے بقول اس وقت جرمنی میں کوئی 850 ادارے ایسے ہیں، جہاں نوجوان سول سروس انجام دے رہےہیں۔ سب سے زیادہ نوجوان ہسپتالوں میں ایمرجنسی سروس، فلاحی اداروں اور امدادی تنظیموں کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔

Deutsche Hilfe für den Iran

ریڈ کراس جیسے رضا کار اداروں میں نوجوان افراد اپنی خدمات پیش کرتے ہیں

ڈوئچے ویلے سے خصوصی بات چیت کے دوران انہوں نے بتایا کہ اگر سروس کی مدت کوکم کر کے چھ ماہ کرنے کے فیصلے میں کوئی تبدیلی نہ آئی، توکسی بھی قسم کا کوئی فائدہ نہیں ہو سکتا۔ ان کے بقول ان شعبوں میں تربیت کا دورانیہ ہی تین ماہ ہوتا ہے۔ اس کے بعد عملے سے تعارف اور کام کا طریقہ کار سمجھانے میں بھی وقت لگتا ہے۔ لیکن اب یہ ہوگا کہ ان شعبوں میں سول سروس کے خواہشمند نوجوانوں کو مزید مواقع فراہم نہیں کئے جائیں گے۔

گابریئیلے مزید کہتی ہیں کہ اس طرح پیدا ہونے والا خلاء کون پرکرے گا؟ الُرِیکے ماشَیر Mascher ایک سماجی تنظیم کی صدر ہیں۔ ان کے بقول اس فیصلےکا اثر اُن افراد پر بھی پڑے گا جو اپنی جسمانی دیکھ بھال خود نہیں کرسکتے یا معذور ہیں۔ انہوں نے کہا کہ معذور طلبہ و طالبات اکثر صرف اس لئے تعلیم حاصل کر سکتے ہیں کہ سول سروس انجام دینے والا کوئی نہ کوئی نوجوان ان کو سہارا دینے کے لئے ان کے ساتھ ساتھ رہتا ہے۔ لیکن اگر ہر چھ ماہ بعد انہیں ایک نئے ساتھی سے ہم آہنگی پیدا کرنا پڑے، تو یہ بہت مشکل ہو جائے گا۔

الُرِیکے کہتی ہیں کہ اس سے اخراجات میں زبردست اضافہ ہوگا، جس کے نتیجے میں مختلف ادارے نوجوانوں کو ان شعبوں میں تربیت دینے کے مواقع ختم کر دیں گے۔ ریڈ کراس کی گابریئیلے تھیویسن کے مطابق اگر ایسا ہوتا ہے تو ریڈ کراس میں نوجوانوں کوسول سروس کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔

Deutschland Jugendintegrationsgipfel Angela Merkel

چانسلر انگیلا میرکل طالب علموں کے ساتھ

کیا کوئی نوجوان اپنی سول سروس کے دوران کچھ سیکھنے کے بجائے صرف پہرے دار بننا یا کسی اسٹور روم میں کام کرنا چاہے گا ؟ دوسری جانب فلاحی اداروں میں یہ نوجوان جوکچھ کرتے ہیں اس کے لئے پیشہ ور افراد کی خدمات حاصل کرنا، ایک تو مشکل اور دوسرا انتہائی مہنگا پڑتا ہے۔

اس حوالے سے گابریئیلے کا کہنا ہےکہ کسی بوڑھےکوکتاب پڑھ کے سنانا، کسی معذور یا بیمار کی ساتھ وقت گزارنا، اس کی بات سننا، اس کا ہاتھ پکڑنا کوئی آسان کام نہیں ہوتا۔ نوجوان اسے بہت اچھی طرح سر انجام دیتے آئے ہیں۔ مزید یہ کہ اچھے اور تربیت یافتہ افراد کے بغیر جرمنی کا سماجی نظام خطرے میں ہے۔

1955ء سے جرمنی میں نوجوانوں کو لازمی فوجی سروس انجام دینا ہوتی ہے۔ اگرکوئی فوج میں محدود عرصے کے لئے خدمات انجام نہیں دیتا، تواسے متبادل کے طور پر یہی کام سول شعبے میں کرنا پڑتا ہے۔ شروع میں لازمی فوجی سروس کا دورانیہ اٹھارہ اور سول سروس کا دورانیہ بیس ماہ ہوا کرتا تھا۔ سول سروس میں دو ماہ سزا کے طور پر زیادہ ہوتے تھے۔ تاہم پھر دونوں سروسز کا دورانیہ ایک سا کر دیا گیا۔ فوجی سروس میں نوجوانوں کی کم دلچسپی کی وجہ سے لازمی فوجی اور سول سروس نو ماہ تک محدود کر دی گئی تھی۔ اب فوجی سروس کو چھ ما ہ کر دیا گیا ہے۔ اس فیصلے سے نوجوانوں کی دلچسپی میں اضافہ ہو یا نہ ہو، جرمنی کی سماجی اور فلاحی تنظیمیں اس پر بے حد پریشان ہیں۔

رپورٹ :عدنان اسحاق

ادارت : مقبول ملک