1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

جرمنی میں قابل تجدید توانائی: امکانات اور مسائل

جاپان میں جوہری حادثے کے نتیجے میں دُنیا بھر کی طرح جرمنی میں بھی توانائی سے متعلق پالیسیاں درہم برہم ہو کر رہ گئی ہیں اور ایٹمی توانائی کی بجائے توانائی کے قابل تجدید ذرائع سے استفادے کے مطالبات کیے جانے لگے ہیں۔

default

تاہم ایٹمی توانائی سے دستبردار ہونے کے لیے ضروری ہے کہ سورج اور ہوا وغیرہ سے توانائی کے حصول کے تناسب کو، جو آج کل سترہ فیصد ہے، بڑھا کر تیس چالیس فیصد تک لے جایا جائے تاہم اِس ہدف تک پہنچنے کی راہ میں ابھی کئی ایک رکاوٹیں حائل ہیں۔

دُنیا کے کسی بھی ملک میں شمسی سیلز کی ٹیکنالوجی والے مراکز کی تعداد اتنی زیادہ نہیں، جتنی کہ جرمنی میں ہے۔ اِسی طرح صرف ایک ملک ایسا ہے، جس میں ہوا سے توانائی حاصل کرنے والی چکیوں کی تعداد جرمنی سے زیادہ ہے۔ جرمنی اپنی توانائی کی گیارہ فیصد جبکہ بجلی کی سترہ فیصد ضروریات توانائی کے قابل تجدید ذرائع سے پوری کرتا ہے۔ جرمنی میں قابل تجدید توانائی کے شعبے کی وفاقی انجمن کے اندازوں کے مطابق سن 2020ء تک ہی جرمنی میں فابلِ تجدید ذرائع سے حاصل کی جانے والی توانائی کا تناسب تقریباً 30 فیصد تک پہنچ جائے گا۔

Logo des Energieversorgers RWE

توانائی فراہم کرنے والا جرمن ادارہ RWE

جرمنی میں توانائی فراہم کرنے والے بڑے ادارے RWE کے قابل تجدید توانائیوں سے متعلق شعبے کے نمائندے ہولگر گاسنر ہوا سے توانائی کے حصول کے زبردست معترف ہیں اور کہتے ہیں:’’ہم ایسی ٹیکنالوجیز میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں، جن میں ہم کاربن ڈائی آکسائیڈ کی زیادہ سے بچت بھی کر سکیں اور زیادہ سے زیادہ بجلی بھی پیدا کر سکیں۔ یہ بات شمسی سیلز سے حاصل ہونے والی توانائی کے مقابلے میں ہوا اور دیگر ذرائع سے توانائی کے حصول پر زیادہ صادق آتی ہے۔‘‘

یہ کمپنی سالانہ ایک ارب یورو خاص طور پر ہوا سے توانائی پیدا کرنے والی نئی چکیوں پر خرچ کرتی ہے اور اِس کمپنی کی اپنی چکیوں کی تعداد صرف تین برسوں کے اندر اندر دگنی سے بھی زیادہ ہو چکی ہے۔پَوَن چکیوں کی اقتصادی انجمن کے چیئرمین وولف گانگ فان گیلڈرن کا کہنا ہے کہ آج کل ہوا سے تقریباً 27 ہزار میگا واٹ بجلی حاصل کی جا رہی ہے، جس میں سن 2020ء تک تقریباً چار گنا تک اضافہ ہو سکتا ہے۔ تصویر کا دوسرا رُخ لیکن یہ بھی ہے کہ کئی برسوں تک ترقی کی منازل طے کرنے کے بعد گزشتہ برس شمسی سیلز، پَوَن چکیوں اور بائیو مادوں سے توانائی کے حصول کے مراکز میں توسیع کے رجحان میں اچانک کمی آنا شروع ہو گئی اور جزوی طور پر یہ شرح پچاسی فیصد تک نیچے جا گری۔

Eröffnung des Solarparks Lieberose bei Cottbus, Brandenburg

دُنیا کے کسی بھی ملک میں شمسی سیلز کی ٹیکنالوجی والے مراکز کی تعداد اتنی زیادہ نہیں، جتنی کہ جرمنی میں

جرمن حکومت کے خیال میں اِس رجحان کا ذمہ دار عالمگیر مالیاتی بحران ہے تاہم گرین پارٹی کے توانائی کے امور سے متعلق ترجمان ہنس یوزیف فیل اِس کے لیے برلن حکومت کو قصور وار قرار دیتے ہیں، جس نے ایٹمی بجلی گھروں سے استفادے کی مدت میں توسیع کر دی تھی۔ وہ کہتے ہیں:’’آپ یہ دیکھیں کہ دُنیا میں کسی ایٹمی بجلی گھر کی تعمیر کی منظوری اُس سے کہیں زیادہ تیزی سے ہو رہی ہے، جتنی تیزی سے جرمنی میں کسی پَوَن چکی کی اجازت ملتی ہے۔ جانچ پڑتال کے عمل سے گزرتے گزرتے کئی سال لگ جاتے ہیں۔ جرمنی میں پانی سے توانائی کے حصول کے مراکز میں تو توسیع کی اب اجازت ہی نہیں ملتی۔ منظوری کے عمل میں بہت زیادہ رکاوٹیں حائل ہوتی ہیں۔‘‘

حقیقت یہ ہے کہ چند برسوں کے اندر اندر توانائی کے قابل تجدید ذرائع کا شعبہ جرمنی کے اندر ایک بڑے اقتصادی عنصر کی حیثیت اختیار کر گیا ہے۔ اِس شعبے میں کام کرنے والوں کی تعداد بڑھ کر تقریباً تین لاکھ ستر ہزار ہو چکی ہے، جو 2004ء میں صرف ایک لاکھ ساٹھ ہزار تھی۔

رپورٹ: رشارڈ فُکس / امجد علی

ادارت: امتیاز احمد

DW.COM

ویب لنکس