1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

جرمنی میں غیرملکی افراد میں جرائم کی شرح

کرسچین ڈیموکریٹک یونین اور سوشل ڈیموکریٹک یونین کے وہ سیاستدان جن کا تعلق ملک کے داخلہ امور سے ہے ان اعداد و شمار پر یقین کرنے کے لئے تیار نہیں کہ جرمنی میں غیرملکیوں کے جرائم میں ملوث ہونے کی شرح کم ہو رہی ہے۔

default

تازہ شماریات کی رو سے 2004 تا 2007 کے درمیان غیر ملکیوں کے جرائم کی شرح 22.9 فی صد سے گھٹ کر 21.4 فی صد تک آ گئی ہے۔ صوبہ باویریا کے وزیر داخلہJoachim Herrmann کے مطابق یہ محض ایک ظاہری مثبت تبدیلی ہے۔ انہوں نے کہا:’’یہ بات مدنظر رکھی جانی ضروری ہے کہ جرمن شہریت حاصل کرنے والے غیر ملکیوں کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ چنانچہ یہ بات بھی شماریات میں بتائی جانی چاہیے کہ جرم کا ارتکاب کرنے والا اگرچہ جرمن شہری ہے لیکن اس کا پس منظر غیر ملکی ہے۔‘‘

Migration Zuwanderungspolitik

Herrmann نے کہا کہ ان کا صوبہ 2010 سے مجرموں کے بارے میں اعداد و شمار جمع کرتے وقت اس بات کو بھی مدنظر رکھے گا۔

باویریا کے علاوہ صوبہ ہمبرگ میں بھی انہی خطوط پر سوچا جا رہا ہے۔ CDU سے تعلق رکھنے والے امور داخلہ کے سینیٹر Christoph Ahlhaus نے کہا:’’سائنسی انداز میں جب تحقیق کی جاتی ہے تو انسان پہلے سے ہی اپنی مرضی کے نتائج مرتب نہیں کر سکتا بلکہ اس کا انحصار ان اعداد وشمار پر ہوتا ہے جو تحقیق کے بعد سامنے آتے ہیں۔‘‘

Ahlhaus نے انسداد جرائم کے صوبائی دفتر کی ایک تجزیاتی رپورٹ کی جانب توجہ دلائی جو 2006 میں تیار کی گئی تھی اور جس کی رو سے ہمبرگ شہر کے حصے Bergdorf میں اس بات کا کھوج لگایا گیا تھا کہ یہاں ہونے والے جرائم میں غیرملکیوں کی شرکت کتنے فیصد ہے۔ نتائج سے پتہ چلا کہ یہاں غیرملکیوں کے جرائم کی شرح تمام صوبے میں ہونے والے جرائم کے مقابلے میں کم ہے۔ اس کے برعکس جب برلن میں 2006 کے دوران نوجوانوں میں جرائم کی شرح کا جائزہ لیا گیا تو یہ بات سامنے آئی کہ غیر ملکی پس منظر رکھنے والے نوجوانوں کی شرح 44.7 فیصد تھی۔

تاہم جرمنی کی دیگر سیاسی جماعتیں مثلاً SPD، ماحول پرستوں کی جماعت گرینز اوربائیں بازو کی جماعت Linkspartei اس تجویز کے خلاف ہے کہ جرائم سے متعلقہ اعداد و شمار اکٹھے کرتے وقت یہ معلومات بھی جمع کی جائیں کہ کس جرمن شہری کا پس منظر غیر ملکی ہے۔