1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

جرمنی میں غیرت کے نام پر قتل میں ملوث مجرم کو عمر قید کی سزاء

جرمنی میں غیرت کے نام پر قتل کے مقدمے کی کارروائی ہیمبرگ شہر میں مکمل ہونے کے بعد عدالت نے مجرم کو عمر قید کی سزاء سنائی ہے۔

default

تیئس سالہ بہن مرصل کے قاتل: افغان نژاد جرمن احمد صوبیر او، عدالت میں

جرمن نژاد افغان باشندے احمد صوبیر او کو اپنی سولہ سالہ بہن، مُرصل کو قتل کرنے کا جرم ثابت ہونے کے بعد عدالت کی جانب سے عمر قید کی سزاء سنائی گئی ہے۔ غیرت کے نام پر کئے گئے قتل کی واردات میں مجرم نے اپنی بہن پر تیئس مرتبہ چاقو سے وار کئے۔ احمد صوبیر او کے خلاف فوجداری مقدمے کی کارروائی ہیمبرگ عدالت میں جاری تھی۔ قتل کی یہ واردات مئی سن دو ہزار آٹھ میں وقوع پذیر ہوئی تھی۔ احمد صوبیر او کا اِس بہیمانہ جرم کے ارتکاب کے بعد یہ کہنا تھا کہ اُس کی بہن کا مغربی پہناوے اور میک اپ کے استعمال سے خاندان کے لئے رسوائی کا سامان پیدا ہوا تھا۔

فوجداری مقمے کی کارروائی سننے والے جج Wolfgang Backen نے اپنے فیصلے میں تحریر کیا کہ بحثیت بھائی کے اُس کو اپنی بہن کی ہلاکت کی ذمہ داری قبول کرنی چائیے کیونکہ مقتولہ کی جان کی حفاظت اُس کی ذدمہ داری تھی۔ عدالت میں وکیل استغاثہ Boris Bochnick نے ارتکاب جرم کی تفصیلات بیان کرتے کہا کہ مجرم نے مرد کے غلبے والے افغان معاشرے کے ایک نوجوان افغان کا کردار نبھاتے ہوئے جو مسئلے کا حل تھا وہی کیا کہ لڑکی کو منظر سے ہٹا دیا جائے اور اُس نے ایسا ہی کیا۔ وکیل استغاثہ نے عدالت کو بتایا کہ مجرم جس دنیا میں رہتا ہے وہ اُن کے معاشرے کی طرح نہیں ہے کیونکہ اُس کے ماحول میں خاندانی عزت و وقار انسانی جان سے افضل ہے۔

وکیل صفائی نے اِس واقعہ کو حاندانی المیے سے تعبیر کرتے ہوئے دفاع کی ایک ناکام کوشش کی اور مجرم کی ذہنی حالت کو نفسیاتی طورست نہیں قرار دیا۔ عدالت نے وکیل صفائی کے دلائل سے اتفاق نہیں کیا اور مجرم پر قتل کے علاوہ کئی اور جرائم کی فرد بھی عائد کی۔ وکیل صفائی نے اعلیٰ عدالت میں اپیل کا بھی عندیہ دیا ہے۔

عدالت میں فیصلے کے وفت مجرم احمد صوبراو نے اِس واقعہ پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ وہ اپنی بہن سے بہت پیار کرتا تھا اور اپنے عمل پر دِل کی گہرائی سے پشیمان ہے۔ فیصلے کے اعلان پر مہمانوں کی گیلری میں بیٹھے مجرم کے خانادان کے افراد نے واویلہ بھی کیا۔

غیرت کے نام پر ہونے والے اِس قتل کی آواز جرمنی کے طول و عرض میں سنی گئی اور ہر حلقے میں اِس پر افسوس کا اظہار کیا گیا۔ سن اُنیس سو چھانوے سے لے کر اب تک جرمنی میں غیرت کے نام پر پچاس قتل کئے جا چکے ہیں۔