جرمنی میں صدر کا انتخاب کیسے ہوتا ہے؟ | حالات حاضرہ | DW | 12.02.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جرمنی میں صدر کا انتخاب کیسے ہوتا ہے؟

آج جرمنی میں نئے صدر کا انتخاب کیا جائے گا۔ سابق وفاقی وزیر خارجہ فرانک والٹر اشٹائن مائر صدر کے عہدے کے لیے ’فیورٹ‘ قرار دیے جا رہے ہیں۔ لیکن جرمنی میں صدر کے عہدے کی اہمیت کیا ہے اور اس صدر کا انتخاب کیسے ہوتا ہے؟

جرمنی میں صدر کا عہدہ علامتی حیثیت رکھتا ہے اور صدر کے پاس محدود اختیارات ہوتے ہیں تاہم ملک میں صدر کو ’اخلاقی اختیارات‘ کے حوالے سے اہم حیثیت حاصل ہوتی ہے۔ جرمنی کے موجودہ صدر یوآخیم گاؤک ہیں۔ گاؤک کا تعلق سابقہ مشرقی جرمنی سے ہے اور وہ پادری ہونے کے ساتھ ساتھ مشرقی جرمنی میں جمہوریت کے حصول کے لیے سرگرم کارکن کے طور پر جانے جاتے تھے۔ اب ان کی عمر 77 برس ہو چکی ہے اور انہوں نے اپنی عمر کے باعث اگلی مدت کے لیے صدارتی عہدہ قبول کرنے سے معذرت کر لی تھی۔

جرمنی میں صدر کے عہدے کا انتخاب 1260 منتخب اراکین کرتے ہیں۔ ان میں سے 630 اراکین کا تعلق ملک کے وفاقی ایوان زیریں سے ہوتا ہے جب کہ باقی اراکین کو یکساں طور پر سولہ وفاقی جرمن ریاستوں سے منتخب کیا جاتا ہے۔

نئے صدر کے انتخابات میں فرانک والٹر اشٹائن مائر کو فیورٹ قرار دیا جا رہا ہے۔ اشٹائن مائر گزشتہ مہینے تک جرمنی کے وفاقی وزیر خارجہ کے عہدے پر فائز تھے۔ اشٹائن مائر کا تعلق سوشل ڈیموکریٹک پارٹی سے ہے لیکن ان کو جرمن چانسلر انگیلا میرکل کی سیاسی جماعت کرسچن ڈیموکریٹک یونین اور ان کی اتحادی جماعتوں کی حمایت حاصل ہے۔ اس اتحاد میں شامل سیاسی جماعتوں کے مجموعی اراکین کی تعداد 923 ہے جس کی وجہ سے اشٹائن مائر کا صدر بننا یقینی دکھائی دیتا ہے۔

رواں برس ستمبر کے مہینے میں جرمنی میں عام انتخابات کا انعقاد بھی ہو رہا ہے۔ اس تناظر میں اتحادی جماعتوں کے لیے متفقہ طور پر ملکی صدر منتخب کرنا ایک امتحان بھی ہے۔ عام انتخابات میں چانسلر میرکل چوتھی مرتبہ چانسلر کا عہدہ حاصل کرنے کی خواہش مند ہیں۔ تمام اتحادی جماعتیں چاہتی ہیں کہ آئندہ انتخابات میں ان کی پوزیشن پہلے سے زیادہ مستحکم ہو تاکہ اتحادی حکومت بنانے سے بچا جا سکے۔

اشٹائن مائر کو جرمن عوام کا پسندیدہ سیاست دان سمجھا جاتا ہے۔ اکسٹھ سالہ صدارتی امیدوار چانسلر میرکل کے دور اقتدار میں دو مرتبہ وزیر خارجہ کے عہدے پر فائز رہ چکے ہیں۔ عام طور پر انہیں انتہائی مدبر اور صابر ڈپلومیٹ کے طور پر جانا جاتا ہے تاہم انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتخابی مہم کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

آج ہونے والے صدارتی انتخابات میں ان کے مد مقابل چار امیدوار ہیں۔ بائیں بازو کی جرمن سیاسی جماعت نے کرسٹوف بُٹرویگے کو نامزد کر رکھا ہے جب کہ انتہائی دائیں بازو کی عوامیت پسند سیاسی جماعت اے ایف ڈی کے نائب صدر البریخت گلازر بھی جرمن صدر بننے کے خواہش مند ہیں۔

DW.COM