1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

جرمنی میں شدید گرمی سے پریشان شہری

یورپ کے دوسرے ممالک کی طرح جرمنی بھی آج کل شدید گرمی کی لپیٹ میں ہے۔ اِسی گرمی کی وجہ سے گزشتہ ہفتے کے روز ایکسپریس ٹرینوں میں سفر کرنے والے مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

default

امدادی کارکن بے ہوش طلبا کے ہمراہ

ان ریل گاڑیوں کا ایئرکنڈیشننگ نظام خراب ہونے کے باعث ان ٹرینوں کو فوری طور پر خالی کرانا پڑا تھا۔ یہ ٹرینیں جرمنی کے دارالحکومت برلن سے کولون اور ڈسلڈورف کی طرف جا رہی تھی‍‍ں۔ ان میں سے دو ٹرینوں کو ہینوور میں روک کر خالی کرایا گیا جبکہ تیسری ٹرین کو بیلے فیلڈ میں روکنا پڑا۔ ایک مقامی اخبار ’ویسٹ فالن بلاٹ‘ کے مطابق اس ٹرین میں 27 طالب علم شدید گرمی کی وجہ سی بے ہوش ہو گئے۔ یہ طالب علم برلن سیر کی غرض سے گئے تھے۔

عینی شاہدین نے بتایا کہ ان ٹرینوں میں گنجائش سے زیادہ مسافر سوار تھے اور شدید گرمی کی وجہ سے اے سی سسٹم نے کام کرنا بند کر دیا تھا، جس کی وجہ سے اندرونی ٹمپریچر 50 ڈگری سے بھی زیادہ ہوگیا تھا۔ ٹرین کی پچھلی بوگیوں میں سوار بہت سے مسافر گرمی کی وجہ سے اتنے نڈھال ہوگئے تھے کہ ان سے مزید کھڑا بھی نہیں ہوا جا رہا تھا۔ اپنے ایک کم سن بیٹے کے ساتھ سفر کرنے والی ایک خاتون نے مایوسی کے عالم میں چلتی ہوئی ٹرین کے شیشے توڑنے کی کوشش کی۔

Deutschland Hitzewelle Sommer 2010

جرمنی میں آگ برساتا سورج۔ جرمن شہر ڈریزڈن میں چند روز قبل اُتاری گئی تصویر

جب یہ ٹرین ہفتے کی شام بیلےفیلڈ شہر کے ریلوے سٹیشن پر رکی، تو بڑی تعداد میں امدادی ٹیمیں گرمی کی وجہ سے بے حال مسافروں کی مدد کے لئے موجود تھیں۔

ان مسافروں کی بڑی تعداد 16 سے 18 سال تک کے عمر کے طالب علموں پر مشتمل تھی، جنہیں فوری طور پر طبی امداد دی گئی۔ ان میں سے 9 طالب علموں کو مزید علاج کے لئے قریبی ہسپتال لے جایا گیا۔

آج کل جرمنی سمیت یورپ کے زیادہ تر ملکوں کو گرمی نے اپنی لپیٹ می‍ں لے رکھا ہے۔ برطانوی حکام کے مطابق شدید گرمی کی لہر کے بعد سے برطانیہ میں پچھلے دو ہفتوں کے دوران شرح اموات میں اضافہ ہوا ہے۔ اسی طرح سپین کے جنوبی علاقے بھی شدید گرمی کی لپیٹ میں ہیں، جس کی وجہ سے کئی بوڑھے اور بیمار افراد چل بسے۔

بیلجیم میں بھی گرمی اور بارش کے نہ ہونے کی وجہ سے بہت سے علاقوں میں پانی کی قلت کا خدشہ پایا جاتا ہے۔ دریں اثناء جرمنی میں ریلوے حکام نے متاثرہ مسافرین سے معذرت کی ہے اور زرِ تلافی کی ادائیگی کا بھی وعدہ کیا ہے۔ ہفتے کے روز ڈوئچے بان کی تین ٹرینوں میں ایئر کنڈیشنرز کے فیل ہونے کی وجہ سے تقریباً 1000 افراد کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

رپورٹ: بریخنا صابر

ادارت: امجد علی