1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

جرمنی میں شامی مہاجر، انتہائی قدامت پسند مساجد میں

ہانی سلام شامی خانہ جنگی سے فرار ہو کر پہلے مصر اور پھر وہاں سے جرمنی پہنچے۔ مگر یہاں کولون میں اپنے گھر کے پاس انہوں نے لمبی داڑھیوں والے سلفی مسلمان دیکھے، تو وہ خوف زدہ ہو گئے۔

ہانی سلام گزشتہ برس نومبر سے جرمن شہر کولون میں رہ رہے ہیں اور انہیں اس صورت حال پر سخت تشویش ہے۔ ایک بے ترتیب داڑھی والے شخص کو دیکھ کر سلام کو اپنے آبائی شہر دمشق پر شدت پسند تنظیم جیش الاسلام کا وہ جنگجو یاد آ گیا، جس نے ان کے گھر پر قبضہ کر لیا تھا۔ 36 سالہ سلام، جن کی مونچھیں ہیں مگر داڑھی نہیں، کا کہنا ہے کہ انہیں بھی ان سلفی مسلمانوں سے بار بار سننا پڑ رہا ہے: ’’اچھے مسلمان داڑھی رکھتے ہیں، مونچھیں نہیں۔‘‘

ہانی سلام کے مطابق صدیوں پرانے اس خیال کو وہ مسترد کرتا ہے۔ ’’میں مساجد سے متعلق کوئی بھی چیز دیکھتا ہوں تو مجھے پریشانی ہوتی ہے۔‘‘

جرمنی میں موجود شامی باشندوں کا کہنا ہے کہ یہاں موجود عرب مساجد ان کے آبائی ملک میں مساجد سے بھی زیادہ سخت گیر نظریات کی وکالت کرتی ہیں۔

دو ماہ میں قریب بارہ شامی مہاجرین نے تین جرمن شہروں میں چھ مساجد کے بارے میں بتایا کہ وہاں عربی زبان میں سخت گیر اور نامناسب پیغامات دیے جاتے ہیں جب کہ نئے آنے والے افراد کے لباس اور مذہب پر عمل درآمد کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ ایسے میں بعض افراد قرآن کی تشریح سیاق و سباق سے ہٹ کر حرف بہ حرف کرنے پر اصرار کرتے ہیں۔

یورپ میں سب سے زیادہ مہاجر قبول کرنے والے ملک جرمنی کے لیے یہ ایک انتہائی سنجیدہ مسئلہ ہے، جہاں مہاجرین کی وجہ سے سیاسی اور سماجی سطح پر سنگین تبدیلیاں دیکھی جا رہی ہیں اور انتہائی دائیں بازو کی جماعتوں کی مقبولیت میں اضافہ ہو رہا ہے۔

Salafisten in Deutschland (picture-alliance/dpa/B.Roessler)

جرمنی میں متعدد سلفی گروہ متحرک ہیں

رواں برس جرمنی میں انتہائی دائیں بازو کی جماعت الٹرنیٹیو فار جرمنی نے مختلف صوبائی انتخابات میں ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ کامیابیاں حاصل کیں۔ اس پارٹی کا نعرہ ہے کہ ’اسلام جرمن دستور سے مطابقت نہیں رکھتا‘۔ دوسری جانب جرمنی میں حالیہ کچھ عرصے میں شدت پسند مسلمانوں کی جانب سے دہشت گردانہ حملوں یا ایسے حملوں کی منصوبہ بندی جیسے واقعات نے بھی صورت حال کو خاصا تبدیل کر دیا ہے۔ متعدد شامی مہاجرین کا کہنا ہے کہ اس بداعتمادی میں مساجد میں دیے جانے والے پیغامات اضافے کا باعث بن رہے ہیں۔

جرمنی میں مختلف مذاہب کو روایتی طور پر ریاستی معاونت حاصل ہے، تاہم جرمنی میں بسنے والے قریب چار ملین ترک شہری ترک زبان میں خطبات والی مساجد کا رخ کرتے ہیں، جن میں سے بہت سی مساجد کی مالی اعانت انقرہ حکومت کرتی ہے۔

گزشتہ برس آٹھ لاکھ نوے ہزار مہاجر جرمنی پہنچے تھے، جن میں سے 70 فیصد تعداد مسلم باشندوں کی تھی۔ اس تعداد کا ایک تہائی شام سے تعلق رکھنے والے افراد پر مشتمل تھا۔ ان میں سے زیادہ تر ترک مساجد میں خطبات سمجھ میں نہ آنے کی وجہ سے عرب مساجد کا رخ کرنا پسند کرتے ہیں۔ تاہم یہ مساجد سخت گیر پیغامات کی حامل ہیں۔

اس سے قبل متعدد جرمن سیاست دان بھی کہہ چکے ہیں کہ جرمنی میں مساجد کی نگرانی کی جانا چاہیے اور وہاں دیے جانے والے خطبات کے مواد کو دیکھا جانا چاہیے۔ یہ بات بھی اہم ہے کہ جرمنی کے مشرقی حصے میں چند روز قبل دہشت گردانہ حملے کی منصوبہ بندی کرنے کے الزام میں گرفتار ہونے والے اور بعد میں جیل میں خود کشی کر لینے والے شامی مہاجر جابر البکر کے ایک بھائی نے بھی ایک جرمن جریدے سے بات چیت میں بتایا تھا کہ البکر اپنے ملک میں شدت پسندانہ نظریات کا حامل نہیں تھا بلکہ جرمنی میں ایک مسجد کے امام نے اس حوالے سے اس کی ذہن سازی کی تھی۔ جابر البکر نے جرمن شہر لائپزگ کی جیل میں خودکشی کر لی تھی۔