1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جرمنی میں سیلاب، دو افراد ہلاک

جرمنی میں درجہ حرارت بڑھنے کے باعث برف پگھلنے اور دریاؤں میں طغیانی کے باعث کئی آبادیوں میں سیلاب آ گیا ہے، جس کے نتیجے میں کم از کم دو افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

default

جرمنی کے شہر کوبلنز میں دریائے موزل کے پانی کی سطح میں ہونے والے اضافے کی وجہ سے ایمر جنسی سروس کے اہلکاروں نے حفاظتی پشتے باندھنے کا آغاز کر رکھا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ آج کسی بھی وقت کوبلنز میں اُس مقام پر، جہاں دریائے موزل کا پانی دریائے رائن میں شامل ہوتا ہے، پانی کی سطح میں اضافہ متوقع ہے، جس سے نمٹنے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں ۔

دریائے موزل کے قریب انگور کاشت کرنے والے علاقے کوخم اور سَیل کئی کئی میٹر تک پانی کی سطح بلند ہونے کے باعث پہلے ہی زیر آب آ چکے ہیں جبکہ کولون شہر کے چند علاقے بھی سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں۔

Schild mit Hochwasserwarnung

ایمرجنسی حکام نے سیلاب سے نمٹنے کے لئےکاروایئاں شروع کر رکھی ہیں

ملکی ریل سروس ڈوئچے بان کے ترجمان کے مطابق ریلوے ٹریکس پر سیلابی پانی کے باعث Wuppertal میں ٹرینوں کا رُخ محفوظ پٹڑیوں کی جانب موڑ دیا گیا ہے۔

گو کہ جرمنی کے کچھ علاقوں میں سیلابی پانی کی سطح میں کمی آنا شروع ہو چکی ہے تاہم جرمن ریاست تھیورنگیا کی متعدد سڑکوں اور پلوں پر اب بھی اونچے درجے کا سیلابی پانی کھڑا ہے، جس کی وجہ سے ان سڑکوں کو بند کر دیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق رواں ہفتے مزید برف پگھلنے کے باعث صورتحال مزید خراب ہونے کا خدشہ ہے۔

ملک میں آنے والے حالیہ سیلاب سے اب تک دو افراد کی ہلاکت کی خبر ہے۔ پولیس کے مطابق فورسہائیم کے پاس دریائے اَینس میں سے ایک 50 سالہ شخص کی لاش ملی ہے، جو دریا میں گر کر ہلاک ہو گیا تھا جبکہ صوبے باویریا میں برف پگھلنے کے باعث ایک زیر تعمیر عمارت کی چھت گر گئی، جس سے ایک 67 سالہ شخص ہلاک ہوگیا۔

دوسری جانب جرمنی کے ہمسایہ ملک بیلجیئم میں بھی سیلاب کا خطرہ ہے اور ملکی خبر رساں ادارے بیلجا کے مطابق کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کے لئے جنوبی بیلجیئم کے ایمرجنسی حکام کو انتہائی چوکنا کر دیا گیا ہے۔

رپورٹ: عنبرین فاطمہ

ادارت: امجد علی

DW.COM