1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

جرمنی میں سیاسی پناہ کی درخواستوں پر فیصلوں میں سسُتی کیوں؟

وفاقی جرمن ادارہ برائے تارکین وطن و مہاجرین کے سربراہ نے تسلیم کیا ہے کہ جرمن حکام کو سیاسی پناہ کی درخواستوں پر فیصلے کرنے میں دشواریوں کا سامنا ہے جب کہ اس دوران مزید درخواستیں بھی مسلسل موصول ہو رہی ہیں۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹوں کے مطابق جرمنی کے وفاقی ادارہ برائے تارکین وطن و مہاجرین (بی اے ایف ایم) کے سربراہ فرانک یُرگن وائزے نے تسلیم کیا ہے کہ جرمنی میں غیر ملکیوں کی سیاسی پناہ کی درخواستوں پر فیصلے کرنے میں تاخیر ہو رہی ہے۔

وائزے کا کہنا تھا، ’’جرمنی میں 2015ء کے دوران آنے والے غیر ملکیوں میں سے چھ لاکھ ستّر ہزار سے سات لاکھ ستّر ہزار تارکین وطن کی سیاسی پناہ کی درخواستوں پر ابھی تک حتمی فیصلے نہیں کیے گئے۔‘‘

پناہ گزینوں سے متعلق اس وفاقی ادارے کے سربراہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ موجودہ صورت حال نہ صرف ان مہاجرین کے لیے ناقابل قبول ہے جنہیں فیصلوں کے لیے اس قدر طویل انتظار کرنا پڑ رہا ہے بلکہ اس سے تارکین وطن کے سماجی انضمام کے عمل کو بھی نقصان پہنچ رہا ہے۔

وائزے نے یہ بھی کہا کہ اس سست روی کے باعث مہاجرین کو جرمنی کی روزگار کی منڈی تک رسائی فراہم نہیں ہو رہی جس کی وجہ سے ملکی معیشت کو بھی نقصان ہو رہا ہے۔

تارکین وطن کو جرمنی آنے کے فوراﹰ بعد خود کو جرمن حکام کے پاس رجسٹر کرانا ہوتا ہے۔ اس مرحلے کے بعد وفاقی ادارہ انہیں مختلف جرمن ریاستوں میں بھیج دیتا ہے جہاں سے انہیں عارضی رہائش گاہ فراہم کر دی جاتی ہے۔ مہاجرین کو درخواستوں پر فیصلہ آنے تک انہی مراکز میں رہنا ہوتا ہے۔

بی اے ایم ایف کے سربراہ نے یہ بھی بتایا کہ جرمنی آنے والے تین سے چار لاکھ تارکین وطن کی ابھی تک رجسٹریشن بھی نہیں کی جا سکی۔ وائزے کے مطابق گزشتہ برس کے اختتام تک جمع کی گئی تین لاکھ ستّر ہزار سیاسی پناہ کی درخواستوں پر فیصلے نہیں کیے گئے۔

گزشتہ برس جرمنی میں گیارہ لاکھ سے زائد تارکین وطن پناہ حاصل کرنے کی خواہش میں پہنچے تھے۔ پناہ گزینوں کی آمد کا سلسلہ اب بھی جاری ہے تاہم جنوری کے مہینے میں اس رجحان میں کچھ کمی دیکھی گئی ہے۔

جنوری کے مہینے کے دوران بانوے ہزار کے قریب تارکین وطن جرمنی پہنچے تھے۔ یہ تعداد دسمبر کے مقابلے میں اٹھائیس فیصد کم ہے۔

DW.COM