1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

جرمنی میں سیاسی پناہ، سچ کیا اور جھوٹ کیا؟

جرمن حکومت نے ملک میں سیاسی پناہ کے حصول سے متعلق انسانوں کے اسمگلروں کی جانب سے پھیلائی جانے والی افواہوں کے تدارک اور درست معلومات عام کرنے کے لیے ایک خصوصی ویب سائٹ شروع کی ہے۔

جرمن حکومت نے ’جرمنی کے بارے میں افواہیں‘ نامی ایک خصوصی ویب سائٹ کا آغاز کیا ہے۔ اس ویب سائٹ پر جرمنی میں سیاسی پناہ کے حصول سے متعلق پھیلائی جانے والی افواہوں کے جوابات اور پناہ کے قوانین سے متعلق حقائق شائع کیے جا رہے ہیں۔

پناہ کے مسترد درخواست گزاروں کی اپیلیں، پاکستانی سر فہرست

جرمنی میں کسے پناہ ملے گی اور کسے جانا ہو گا؟

جرمن حکومت کے مطابق انسانوں کے اسمگلر جرمنی میں سیاسی پناہ کے حصول کے بارے میں جھوٹ پر مبنی افواہیں پھیلا کر لوگوں کو اس یورپی ملک میں اچھے مستقبل کا جھانسہ دیتے ہیں۔ ایسی ہی غلط معلومات کو بے نقاب کرنے اور لوگوں تک حقائق پہنچانے کے لیے یہ خصوصی ویب سائٹ شروع کی گئی ہے۔ ویب سائٹ پر انگریزی، جرمن اور عربی زبان میں معلومات مہیا کی گئی ہیں۔

جرمنی کی وفاقی وزارت خارجہ نے پیر تئیس اکتوبر کے روز ویب سائٹ شروع کیے جانے کے بعد جاری کیے گئے اپنے بیان میں کہا، ’’ہم چاہتے ہیں کہ لوگ جھوٹ پر مبنی افواہوں اور غلط امیدوں کے باعث خود کو مشکلات میں نہ ڈالیں۔ ایسی ہی غلط افواہوں کے خاتمے کے لیے ہم اس ویب سائٹ پر غیر جانبدار اور حقائق پر مبنی معلومات شائع کر رہے ہیں۔‘‘

جرمن وزارت خارجہ کا یہ بھی کہنا ہے کہ انسانوں کے اسمگلر جھوٹی معلومات پھیلانے کے لیے زیادہ تر انٹرنیٹ کا ہی سہارا لیتے ہیں اسی لیے ’جرمنی کے بارے میں افواہیں‘ نامی اس منصوبے کے ذریعے انٹرنیٹ ہی کے ذریعے حقیقی صورتحال عام لوگوں تک پہنچانا ضروری ہے۔

ملکی وزارت خارجہ نے سن 2015 سے پاکستان اور افغانستان کے علاوہ شمالی اور مغربی افریقہ میں بھی لوگوں کو غلط معلومات کی بنیاد پر غیر قانونی طور پر یورپ اور جرمنی کی جانب سفر کرنے سے روکنے کے لیے تشہیری مہم شروع کر رکھی ہیں۔ اس منصوبے کے تحت ٹی وی، ریڈیو، عوامی مقامات پر اشتہارات اور انٹرنیٹ کے ذریعے درست معلومات فراہم کی جا رہی ہیں۔ جرمن حکومت کے مطابق نئی ویب سائٹ انہی کاوشوں کی ایک کڑی ہے۔

ویڈیو دیکھیے 01:27

تارکین وطن کے بارے میں پانچ اہم حقائق

اس ویب سائٹ پر ’انسانوں کے اسمگلروں کے سات بڑے جھوٹ‘ کے نام سے بھی ایک مضمون موجود ہے جس میں انسانوں کے اسمگلروں کی جانب سے پھیلائی گئی افواہوں کے جوابات دیے گئے۔ چند ایک معلومات درج ذیل ہیں:

- ’جرمن کمپنیوں کو افرادی قوت درکار ہے اسی لیے وہ ہر روز پانچ ہزار تارکین وطن کو ملازمتیں دے رہے ہیں‘۔

یہ بھی غلط ہے، جرمن کمپنیوں میں بھی ایسا کوئی کوٹہ نہیں ہے۔ اگرچہ جرمنی میں افرادی قوت درکار ہے لیکن غیر قانونی طور پر جرمنی آنے والوں کو ملازمت نہیں ملتی اور نہ ہی جرمن حکومت مہاجرین کو روزگار فراہم کرتی ہے۔

- ’جرمنی ہر مہاجر کو گھر مہیا کرتا ہے‘۔

پناہ کے متلاشی افراد کو رہائش تو دی جاتی ہے لیکن اپنا گھر کسی کو نہیں دیا جاتا اور موجودہ حالات میں جرمنی میں رہائش کے لیے گھر ڈھونڈنا کافی دشوار ہو چکا ہے، خاص طور پر بڑے شہروں میں۔ ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ جرمنی میں تارکین وطن اپنی مرضی سے کسی بھی شہر میں رہائش اختیار نہیں کر سکتے۔

- ’جرمنی میں آٹھ لاکھ افغان مہاجرین کو پناہ دینے کا کوٹہ مختص کیا گیا ہے‘۔

یہ بالکل غلط ہے، جرمنی میں کسی بھی ملک کے لیے کوئی کوٹہ مختص نہیں ہے بلکہ جرمن حکام کو جمع کرائی گئی سیاسی پناہ کی ہر درخواست کا انفرادی طور پر جائزہ لیا جاتا ہے جس کے بعد ہی فیصلہ کیا جاتا ہے۔

اسی طرح اس ویب سائٹ پر جرمنی آنے کے قانونی طریقوں کے بارے میں بھی معلومات فراہم کی گئی ہیں۔

مزید معلومات کے لیے ویب سائٹ وزٹ کیجیے: ’جرمنی کے بارے میں افواہیں‘www.rumoursaboutgermany.info

جرمنی میں پناہ کی تمام درخواستوں پر فیصلے چند ماہ کے اندر

دو برسوں میں ایک لاکھ سے زائد پاکستانیوں نے یورپ میں پناہ کی درخواستیں دیں

DW.COM

ویب لنکس

Audios and videos on the topic