1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

جرمنی میں سیاسی جماعتوں کے چندے پر بحث

جرمنی ميں ايک بار پھر نجی معيشت کی طرف سے ايک سياسی پارٹی کو ديا جانے والا فراخدلانہ چندہ میدان سياست ميں زوردار بحث کا موضوع بنا ہوا ہے۔

default

کئی ہوٹلوں کے مالک ايک ارب پتی نے موجودہ مخلوط حکومت ميں شامل پارٹی ايف ڈی پی کو پچھلے سال 1.1 ملين يورو کا چندہ ديا۔

دلچسپ بات يہ ہے کہ اس نئی حکومت نے، جس ميں يہ پارٹی ايف ڈی پی شامل ہے، اقتدار سنبھالنے کے بعد پہلا کام يہ کيا کہ ہوٹلوں کے کرائے پر اضافی سیلز ٹيکس ميں کمی کردی۔ اب اس پارٹی پر الزام لگايا جارہا ہے کہ اسے خريدا جاسکتا ہے۔

Bundestagswahlen 2009 Stimmabgabe Gregor Gysi

دی لنکے کے ایک رہنما گریگور گائئزی

جرمنی ميں سياسی جماعتوں کو دئے جانے والے چندوں کے سلسلے ميں سن 1966 ميں بنايا جانے والا قانون بنياد کا کام ديتا ہے، جس ميں کئی بار تراميم کی جاچکی ہيں۔ جرمنی کی وفاقی آئينی عدالت بھی کئی مرتبہ سياسی جماعتوں کے مالی اخراجات سے متعلق قانون پر بحث کرچکی ہے۔ اس قانون کے مطابق پارٹيوں کو اپنے مالی اخراجات کے لئے رياستی خزانے سے صرف ايک حد تک مدد مل سکتی ہے۔ مجموعی سرکاری امداد سن 2002 سے 133ملين يورو کے لگ بھگ ہے۔ سياسی پارٹيوں کو اپنے اخراجات پورا کرنے کے لئے ہميشہ ہی عطيات کی خواہش رہتی ہے۔ تاہم اس سلسلے ميں ان پارٹيوں پر چندوں کو کھلے طور پر ظاہر کرنے کی پابندی ہوتی ہے۔

فری ڈيمو کريٹک پارٹی ايف ڈی پی کے چندوں کے تازہ ترين اسکينڈل کے بعد اپوزيشن سخت تنقيد کر رہی ہے۔ سوشل ڈيموکريٹک پارٹی ايس پی ڈی اخلاقی کرپشن کی بات کر رہی ہے اور بائيں بازو کی پارٹی دی لنکے خریدی جانے والی جمہوريت کا شکوہ کر رہی ہے۔ يہ پارٹی سياسی جماعتوں کو چندے دينے پر پابندی لگانے کا مطالبہ بھی کررہی ہے۔

دوسری طرف ايف ڈی پی اسے بالکل لغو الزام قرار دے رہی ہے کہ ہوٹلوں کی آمدنی پر VAT نامی ٹيکس ميں کمی کا تعلق اس بات سے ہے کہ ايف ڈی پی کو ہوٹلوں کے ایک ارب پتی مالک نے چندے دئے تھے۔

پارٹی کے سيکريٹری جنرل نے کہا:

’يہ کوئی سياسی اسکينڈل نہيں ہے۔ ہم نے ہوٹلوں کے ٹيکس ميں کمی کی تجويز سن2007 ہی ميں پيش کردی تھی۔ ہميں دئے جانے والے چندے کا ہوٹل پر عائد ٹیکس ميں کمی سے کوئی تعلق نہيں ہے۔‘

Vereinigte Emirate Deutschland Guido Westerwelle in Abu Dhabi

جرمن وزیر خارجہ اور ایف ڈی پی کے سربراہ گیڈو ویسٹر ویلے

ضابطے کے لحاظ سے ايف ڈی پی کا طرز عمل قطعی درست تھا۔ پارٹيوں کے چندے کے قانون کے مطابق ايک ہی مرتبہ دئے جانے والے عطيے کے پچاس ہزار يورو سے زيادہ ہونے کی صورت ميں اس کی اطلاع وفاقی جرمن پارليمنٹ کے اسپيکر کو فوری طور پر دينا لازمی ہے۔ انٹرنيٹ پر بھی ان چندوں کے بارے ميں ہر شخص معلومات حاصل کرسکتا ہے۔ ايف ڈی پی کو ہوٹلوں کے ارب پتی مالک نے 13 اکتوبر کو ايک ساتھ تين لاکھ يورو کا عطيہ ديا تھا۔ اس کے گيارہ دن بعد ہی ايف ڈی پی نے دوسری دو جماعتوں کے ساتھ مخلوط حکومت بنانے کے مذاکرات مکمل کئے۔ جرمنی میں ماحول پسندوں کی گرين پارٹی کے نزديک چندے اور مذاکرات مکمل کر لينے کی تاريخ کے درميان قربت معنی خيز ہے، کيونکہ انہی مذاکرات ميں ايف ڈی پی کی تجويز پر ہوٹلوں پر ٹيکس ميں کمی کا فيصلہ کيا گيا۔ گرين پارٹی کے سربراہ چيم اؤزدیمیر نے کہا:

’يہ بالکل واضح طور پر اپنے حاميوں کے لئے فائدہ حاصل کرنے کا معاملہ ہے۔ چانسلر کو چاہيے کہ وہ کھل کر کہيں کہ يہ قابل قبول نہيں ہے۔ گرين پارٹی مطالبہ کرتی ہے کہ تجارتی ادارون کی طرف سے سياسی پارٹيوں کو دئے جانے والے چندوں کی ايک حد مقرر کی جائے۔‘

ايف ڈی پی کا کہنا ہے کہ خاص طور پر ہوٹل کے شعبے ميں ہزاروں کارکنوں کی ملازمتيں ختم ہونے کا خطرہ ہے اور اس لئے ہوٹل ٹيکس ميی کمی کا فيصلہ صحيح ہے۔ کرپشن کی روک تھام کی تنظيم ٹرانسپيرنسی انٹرنيشنل کا کہنا ہے کہ ہر فرم کو ايک سال ميں کسی پارٹی کو زيادہ سے زيادہ پچاس ہزار يورو چندہ دينے کی اجازت ہونا چاہيے تاکہ زيادہ بڑی رقوم عطیہ کرنے والے سياست پر ناجائز طور پر اثر انداز نہ ہونے پائيں۔

رپور‌ٹ: مارسیل فُرسٹیناؤ / شہاب احمد صدیقی

ادارت: مقبول ملک

DW.COM