1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

جرمنی میں زیادہ سخت سکیورٹی قوانین زیر غور

جرمنی میں قدامت پسندوں اور ترقی پسندوں کی موجودہ مخلوط حکومت میں اس بارے میں ایک ممکنہ تنازعے کے آثار واضح ہوتے جا رہے ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف کامیاب جنگ کے لئے مناسب اقدامات کون سے ہونے چاہیئں۔

default

برلن میں وفاقی وزارت داخلہ کے ذرائع کے مطابق وزیر داخلہ ٹوماس دے میزیئر انسداد دہشت گردی کے سلسلے میں ملک میں سلامتی سے متعلق نئے قوانین متعارف کرانے پر غور کر رہے ہیں۔

Terror Deutschland Polizei Karlsruhe Bombenleger

جرمنی میں دہشت گردی کے خلاف نئے قوانین پر اختلاف رائے پایا جاتا ہے

جرمن روزنامے Die Welt کی اطلاعات کے مطابق ان نئے قوانین کے تحت جرمن خفیہ اداروں اور مروجہ ملکی قوانین پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے ذمہ دار محکموں کے اہلکاروں کو اب اور زیادہ اختیارات دینے کا پروگرام بنایا گیا ہے۔

اس کے علاوہ وفاقی چانسلر انگیلا میرکل کی قدامت پسند یونین جماعت کرسچین ڈیموکریٹک یونین CDU سے تعلق رکھنے والے وفاقی وزیر داخلہ یہ بھی چاہتے ہیں کہ 2002 اور 2007 کے درمیانی عرصے میں ملک میں انسداد دہشت گردی کے لئے کئے گئے اقدامات کے تحت جو بھی نئے ضابطے اور قوانین صرف محدود عرصے کے لئے نافذ کئے گئے تھے، ان سب کی مدت میں توسیع کر دی جائے۔

جرمن روزنامے ’دی ویلٹ‘ نے اس بارے میں اپنی تازہ ترین اشاعت میں جاری کی گئی تفصیلات میں سکیورٹی کے شعبے میں نئے سخت قوانین کے سلسلے میں حکومتی ذرائع کی طرف سے مہیا کردہ اطلاعات کا حوالہ دیا ہے۔

Deutschland Berlin Polizei Brandenburger Tor Terrorgefahr erhöht

نئے قوانین کے تحت مختلف اداروں کو مزید اختیارات دئے جانے کی تجاویز ہیں

اس جریدے نے تاہم یہ بھی لکھا ہے کہ موجودہ مخلوط حکومت میں شامل ترقی پسندوں کی جماعت فری ڈیموکریٹک پارٹی FDP ان نئے اور زیادہ سخت سکیورٹی قوانین کے خلاف ہے۔

اس جریدے کے مطابق فری ڈیموکریٹک پارٹی کے پارلیمانی حزب کے ناظم الامور کرسٹیان آہرینٹ کے بقول ان کی جماعت اس نئی قانون سازی کے عمل میں کسی بھی طور شامل نہیں ہو گی۔

ایف ڈی پی کے سیکریٹری جنرل کرسٹیان لِنڈنر نے ’دی ویلٹ‘ کو بتایا کہ ترقی پسندوں کی پارٹی اس عمل کا قطعی طور پر حصہ نہیں بننا چاہتی کہ سلامتی کے نام پر مسلسل نئے سے نئے قوانین متعارف کرائے جاتے رہیں۔

جرمنی کی موجودہ مخلوط حکومت میں شامل قدامت پسندوں کی دونوں یونین جماعتوں، کرسچین ڈیموکریٹک یونین CDU اور اس کی ہم خیال کرسچین سوشل یونین CSU کے علاوہ تیسری پارٹی ترقی پسندوں کی فری ڈیموکریٹک پارٹی FDP ہے، جس کے سربراہ گیڈو ویسٹر ویلے وزیر خارجہ بھی ہیں اور نائب وفاقی چانسلر بھی۔

رپورٹ: مقبول ملک

ادارت: عاطف توقیر

DW.COM

ویب لنکس