1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جرمنی میں دہشت گردی پر کاری ضرب

جرمنی میں کئی ماہ سے جاری تفتیش کے بعد وفاقی استغاثہ ملک میں اسلامی انتہا پسندی پر ایک کاری ضرب لگانے میں کامیاب ہوئی ہے۔ ریاست لوئر سیکسنی اور نارتھ رائن ویسٹ فیلیا میں چھاپوں میں پانچ افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔

جرمن حکام نے تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ یہ پانچوں شام میں دہشت گرد تنظیم اسلامک اسٹیٹ کے لیے بھرتی کا ایک ملک گیر نیٹ ورک چلاتے تھے۔ ان پر ایک دہشت گرد تنظیم کے ساتھ تعاون کرنے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ گرفتار شدگان میں’’گمنام مبلغ‘‘ کے نام سے مشہور ایک بتیس سالہ عراقی شہری احمد عبدالعزیز بھی شامل ہے، جو خود کو ’ابو ولاء‘ کہلاتا تھا۔ مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق یہ شخص گزشتہ کئی برسوں سے حکام کی نظروں میں تھا اور اس کا شمار جرمنی میں اسلامک اسٹیٹ کے مرکزی لوگوں میں ہوتا ہے۔

بتایا گیا ہے کہ گرفتار کیے جانے والے دیگر چار افراد میں ایک پچاس سالہ ترک شہری، ایک چھتیس سالہ سربیائی نژاد جرمن شہری، ستائیس برس کا ایک جرمن باشندہ اور افریقی ملک کیمرون کا ایک چھبیس سالہ نوجوان بھی شامل ہے۔ تاہم کہا جاتا ہے کہ ان میں سب سے خطرناک ’ابو ولاء‘ ہی ہے۔

خبر رساں اداروں کے مطابق جرمن پولیس گزشتہ برس موسم خزاں سے ان افراد کے خلاف تفتیش جاری رکھے ہوئی تھی اور رواں برس جولائی میں ہلڈسہائم نامی شہر کی ایک مسجد پر چھاپہ بھی اسی تناظر میں مارا گیا تھا۔ اسے جرمنی میں سلفی نظریات رکھنے والوں کی مرکزی مسجد کہا جاتا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ یہ گرفتاریاں اسلامک اسٹیٹ کا ساتھ دے کر واپس جرمنی پہنچنے والے ایک زیر حراست شخص کی اطلاعات کی روشنی میں عمل میں آئی ہیں۔

حکام نے بتایا کہ اُن کے پاس ایسے شواہد موجود ہیں، جن سے واضح ہوتا ہے کہ ’ابو ولاء‘ کے نیٹ ورک نے کم از کم ایک شخص کو بھرتی کر کے شام بھیجا ہے۔ اس لڑائی میں یہ شخص اپنے خاندان والوں کو بھی ساتھ ہی لے گیا۔ پانچوں گرفتار شدگان ماضی میں کسی بھی دہشت گرد تنظیم کے ساتھ کسی بھی قسم کے تعاون کو رد کر چکے ہیں۔