1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جرمنی میں دہشت گردوں کی دوہری شہریت کی منسوخی کی تجویز

جرمنی میں دہشت گردی کے مرتکب اور دوہری شہریت کے حامل افراد کی جرمن شہریت کی منسوخی باقاعدہ طور پر تجویز کر دی گئی ہے۔ یہ بات وفاقی جرمن وزیر داخلہ تھوماس ڈے میزیئر نے بتائی۔ ملکی پارلیمان نے ابھی اس کی منظوری نہیں دی۔

وفاقی دارالحکومت برلن سے جمعرات گیارہ اگست کو ملنے والی نیوز ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹوں کے مطابق یہ فیصلہ انسداد دہشت گردی کے مقصد کے تحت تجویز کیے گئے ان نئے اقدامات کا حصہ ہے، جن کی منظوری میں تیز رفتاری کی وجہ حال ہی میں جرمنی میں کیے جانے والے وہ دو دہشت گردانہ حملے بنے، جن کی ذمے داری دہشت گرد گروہ ’اسلامک اسٹیٹ‘ یا داعش نے قبول کر لی تھی۔

وزیر داخلہ ڈے میزیئر نے ان نئے اور زیادہ سخت اقدامات کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ اب جرائم کے مرتکب اور سزا یافتہ تارکین وطن کی جرمنی سے ملک بدری بھی زیادہ آسانی اور تیز رفتاری سے ممکن ہو سکے گی۔

ڈے میزیئر نے کہا، ’’ایسے جرمن شہری، جو بیرون ملک جنگجوؤں کے طور پر سرگرم رہے ہوں گے، یا کسی دہشت گرد ملیشیا کی طرف سے لڑتے رہے ہوں گے، اگر وہ جرمنی کے علاوہ کسی دوسرے ملک کی شہریت کے حامل بھی ہوئے، تو ان کی جرمن شہریت منسوخ کر دی جائے گی۔‘‘

جرمن خفیہ اداروں کے اندازوں کے مطابق اب تک جرمنی سے قریب 820 افراد شام اور عراق میں ’اسلامک اسٹیٹ‘ یا داعش کے جہادیوں کے شانہ بشانہ لڑنے کے لیے بیرون جا چکے ہیں۔ ان میں سے اب تک اندازاﹰ ہر تیسرا فائٹر اب تک واپس جرمنی پہنچ چکا ہے، جس کے بعد یہ اندیشے شدید ہو چکے ہیں کہ ایسے عسکریت پسند جرمنی اور دیگر یورپی ملکوں کی سلامتی کے لیے شدید خطرہ ثابت ہو سکتے ہیں۔

Thomas de Maiziere PK Bombenexplosion Ansbach

سزا یافتہ مجرم تارکین وطن کی ملک بدری بھی تیز اور آسان ہو جائے گی، ڈے میزیئر

برلن سے موصولہ رپورٹوں میں مزید بتایا گیا ہے کہ وزیر داخلہ نے آج جن اقدامات کا اعلان کیا، ان کی پہلے چانسلر میرکل کی قیادت میں موجودہ وسیع تر مخلوط حکومت میں شامل جماعتوں اور پھر وفاقی پارلیمان کی طرف سے لازمی منظوری ابھی باقی ہے۔

اے ایف پی نے لکھا ہے کہ دہشت گردی کے مرتکب اور دوہری شہریت کے حامل افراد کی جرمن شہریت منسوخ کرنے کا فیصلہ پارلیمانی منظوری کے عمل میں ایک بہت متنازعہ موضوع ثابت ہو سکتا ہے۔

اس بارے میں اپوزیشن کے ماحول پسندوں کی جماعت گرین پارٹی کے ایک رکن پارلیمان فولکر بَیک نے اس مجوزہ اقدام کی مذمت کرتے ہوئے وزیر داخلہ ڈے میزیئر پر ’بد دلانہ عملیت پسندی‘ کا الزام عائد کیا ہے۔

خود وفاقی وزیر داخلہ نے بھی اعتراف کیا ہے کہ اس بارے میں موجودہ مخلوط حکومت میں شامل سوشل ڈیموکریٹک پارٹی ایس پی ڈی کی رضامندی حاصل کرنا بھی ’ایک مشکل معاملہ‘ ثابت ہو سکتا ہے۔ ایس پی ڈی موجودہ حکومت میں انگیلا میرکل کی جماعت کرسچن ڈیموکریٹک یونین سی ڈی یو کی پارٹنر جونیئر پارٹی ہے۔

DW.COM