1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

جرمنی میں دوسری عالمی جنگ کے بعد پہلی بار ایمرجنسی نافذ

جرمنی میں بہت بڑی تعداد میں مہاجرین اور تارکین وطن کی آمد کے باعث پیدا ہونے والے بحرانی حالات کے تناظر میں دوسری عالمی جنگ کے بعد سے اب تک پہلی بار ملک کے کسی حصے میں ہنگامی حالت کے نفاذ کا اعلان کر دیا گیا ہے۔

جرمن کے مالیاتی مرکز اور وفاقی صوبے ہیسے کے سب سے بڑے شہر فرینکفرٹ سے ہفتہ دس اکتوبر کو ملنے والی نیوز ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹوں کے مطابق اس ایمرجنسی کا نفاذ فرینکفرٹ شہر سے مغرب کی طرف واقع کاؤنٹی مائن ٹاؤنُس Main-Taunus میں مقامی حکومت نے کیا ہے۔

مائن ٹاؤنُس کی علاقائی انتطامیہ نے یہ فیصلہ اس بات کے پیش نظر کیا ہے کہ پیر بارہ اکتوبر کے روز مہاجرین اور پناہ کے متلاشی افراد کے طور پر م‍زید ایک ہزار غیر ملکی اس کاؤنٹی میں پہنچ جائیں گے۔ یہ غیر ملکی اس سال اب تک جرمنی پہنچنے والے ان لاکھوں غیر ملکیوں کا حصہ ہیں، جن کی ملک کے مختلف حصوں میں تقسیم کا کام ایک وفاقی محکمہ کرتا ہے۔

مائن ٹاؤنُس کاؤنٹی کے اعلیٰ حکام کے مطابق ایمرجنسی کے نفاذ کا غیر معمولی فیصلہ اس لیے کیا گیا کہ مہاجرین کی آمد کے بعد پیدا ہونے والی ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے لیے مناسب اقدامات کیے جا سکیں۔

ہنگامی حالت کے نفاذ کے بعد مثال کے طور پر بلدیاتی سطح پر نافذ عوامی تعمیرات اور دیگر شعبوں سے متعلق معمول کے قوانین پر عمل درآمد معطل کر دیا گیا ہے، تاکہ مہاجرین کی آمد کے بعد غیر معمولی اقدامات کرتے ہوئے ان کے لیے فوری طور پر رہائش گاہیں تعمیر کرنے کے علاوہ انہیں دیگر سہولیات بھی مہیا کی جا سکیں۔

مائن ٹاؤنُس کی علاقائی حکومت کی جاری کردہ ایک بیان کے مطابق 1945ء میں دوسری عالمی جنگ کے خاتمے کے بعد سے گزشتہ سات عشروں سے بھی زائد عرصے میں یہ پہلا موقع ہے کہ جرمنی کے کسی حصے میں ایمرجنسی نافذ کی گئی ہے۔

یورپ کو گزشتہ کئی مہینوں سے مہاجرین کے جس شدید بحران کا سامنا ہے، اس کا نتیجہ جرمنی میں بھی لاکھوں تارکین وطن کی آمد کی صورت میں نکلا ہے۔ اس سال کے دوران اب تک محتاط اندازوں کے مطابق بھی چھ لاکھ مہاجرین اور تارکین وطن جرمنی پہنچ چکے ہیں، جن میں سے زیادہ تر کا تعلق شام، عراق، افریقہ اور افغانستان سے ہے۔

DW.COM