1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جرمنی میں داعش کے مشتبہ حامیوں کے خلاف پولیس کے چھاپے

جرمن حکام نے ملک میں موجود داعش کے حامیوں کے خلاف دباؤ بڑھانا شروع کر دیا ہے۔ جرمن صوبوں نارتھ رائن ویسٹ فیلیا اور لوئر سیکسنی میں داعش کے متعدد مشتبہ حامیوں کے گھروں پر چھاپے مارے گئے ہیں۔

وفاقی جرمن صوبوں نارتھ رائن ویسٹ فیلیا اور لوئر سیکسنی میں پولیس نے شدت پسند جہادی تنظیم داعش کے تین مشتبہ حامیوں کے گھروں پر چھاپے مارے ہیں۔

جرمن شہر کارلسروہے میں وفاقی اٹارنی جنرل کی ایک ترجمان کا جرمن نیوز ایجنسی ڈی پی اے سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ان تین مشتبہ ملزمان پر شبہ ہے کہ انہوں نے دو ہزار پندرہ میں جنوری اور جولائی کے مہینوں کے درمیان داعش کی رکنیت حاصل کرنے اور اس تنظیم کی مدد کرنے کی کوششیں کی تھیں۔

بتایا گیا ہے کہ حراست میں لیے گئے افراد میں سے ایک ملزم نے داعش کو نہ صرف مالی بلکہ لاجسٹک مدد بھی فراہم کی تھی۔ یہ چھاپے جرمنی کی ایک وفاقی عدالت کے جج کی طرف سے کی جانے والی چھان بین کے پس منظر میں دی گئی اجازت کے بعد مارے گئے۔ فیڈرل اٹارنی جنرل کے دفتر کے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق فی الحال صرف ثبوت جمع کیے گئے ہیں اور کسی بھی مشتبہ ملزم کو باقاعدہ طور پر گرفتار نہیں کیا گیا۔

جرمنی میں قانونی طور پر پولیس کو عدالتی اجازت نامے کے بغیر کسی کے گھر پر چھاپہ مارنے کی اجازت نہیں ہوتی۔ عدالت کسی بھی مشتبہ شخص کے گھر کی تلاشی کی اجازت صرف اسی وقت دیتی ہے، جب پولیس یا تفتیشی اداروں کی طرف سے کسی متعلقہ عدالت کے سامنے مناسب ثبوت پیش کیے جائیں۔

عینی شاہدین کے مطابق شہر ڈوئسبرگ میں ایک ٹریول ایجنسی پر بھی چھاپہ مارا گیا۔ انٹرنیٹ ویب سائٹ ’ڈئر وَیسٹن‘ کے مطابق ٹریول ایجنسی کے مالک پر شبہ ہے کہ اس کے ان دو نوجوانوں سے رابطے تھے، جنہوں نے شہر اَیسن میں سکھوں کی ایک عبادت گاہ پر حملہ کیا تھا۔ تاہم ٹریول ایجنسی کے مالک نے ایسے رابطوں کی تردید کی ہے۔

دوسری جانب گزشتہ جمعے کے روز صوبے نارتھ رائن ویسٹ فیلیا میں ایک مہاجر کو بھی داعش کی حمایت کرنے کے شبے میں گرفتار کر لیا گیا تھا۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق آج بدھ کے روز مارے گئے چھاپوں سے ایسی معلومات مل سکتی ہیں، جن کی بنیاد پر ایسے دیگر افراد کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکتی ہو، جو داعش کے حامی ہیں یا اس عسکریت پسند تنظیم کے لیے جرمنی میں خفیہ طور پر اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

جرمن حکام نے ملک میں داعش یا ’اسلامک اسٹیٹ‘ سے منسلک عسکریت پسندوں کے حالیہ حملوں کے بعد سے ایسے افراد کے خلاف اپنی کارروائیاں تیز تر کر رکھی ہیں، جو کسی نہ کسی طریقے سے شام اور عراق میں سرگرم جہادی تنظیم داعش کے ساتھ وابستہ ہیں۔