1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

جرمنی میں داخلہ اب صرف پانچ مقامات سے

جرمنی اور آسٹریا کے مابین طے پانے والے ایک معاہدے کے تحت مہاجرین اب دونوں ممالک کے مابین سرحد پر صرف پانچ مقامات سے جرمنی میں داخل ہو سکیں گے۔ زیادہ تر مہاجرین آسٹریا کے راستے جرمنی میں پہنچتے ہیں۔

جرمنی کے دارالحکومت برلن سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق آسٹریا اور جرمنی کے مابین مہاجرین کی جرمنی میں آمد کو منظم کرنے کے لیے ایک معاہدے پر اتفاق ہو گیا ہے۔ معاہدے کے مطابق آسٹریا اور جرمنی کے مابین سرحد پر صرف پانچ داخلی راستے بنائے جائیں گے جہاں سے مہاجرین جرمنی میں داخل ہو سکیں گے۔

جرمن وزارت داخلہ کے ترجمان نے خبر رساں ادارے اے ایف پی سے کی گئی ایک گفتگو میں کہا، ’’ہم روزانہ ہزاروں کی تعداد میں جرمنی پہنچے والے مہاجرین کے سلسلے کو منظم کرنا چاہتے ہیں۔‘‘ ترجمان کے مطابق جرمن اور آسٹریائی حکومتوں کے درمیان نئی پالیسی پر اتفاق کر لیا گیا ہے اور اس پر عمل درآمد بھی فوری طور پر شروع ہو چکا ہے۔

رواں ہفتے جرمن وزیر داخلہ جرمن وزیر داخلہ تھوماس ڈے میزیئر کے ایک بیان کے بعد برلن اور ویانا کے تعلقات میں تلخی دکھائی دی تھی۔ مذکورہ بیان میں جرمن وزیر داخلہ نے الزام لگایا تھا کہ آسٹریا جرمنی کو پیشگی اطلاع دیے بغیر پناہ کے متلاشی افراد کو جرمنی بھیج رہا ہے۔

جرمنی اور آسٹریا کے مابین سرحد تقریباﹰ آٹھ سو کلومیٹر طویل ہے۔ جرمن حکام کو اس طویل سرحد پر مختلف مقامات سے داخل ہونے والے نئے مہاجرین کو سنبھالنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔ خیال رہے کہ جرمنی کی جنوبی ریاست باویریا آسٹریا کی سرحد پر واقع ہے۔

باویرین حکام بارہا یہ شکایت کر چکے ہیں کہ صوبائی حکومت کے وسائل ریکارڈ تعداد میں آنے والے مہاجرین کے لیے انتظامات کرنے کے لیے ناکافی ہیں۔ باویریا میں قدامت پرست جماعت کرسچن سوشل یونین (سی ایس یو) کی حکومت ہے جو جرمن چانسلر انگیلا میرکل کی ’کھلی سرحد‘ کی پالیسی کی بھی مخالف ہے۔

آسٹریائی حکام نے بھی اس حوالے سے ردعمل کا اظہار کیا تھا۔ آسٹریائی پولیس کے ایک ترجمان کا ایک بیان میں کہنا تھا، ’’ایسا کہنا کہ باویریا حکومت نئے آنے والے پناہ گزینوں کے لیے انتظامات نہیں کر سکتی، صرف ایک مذاق ہے۔‘‘

DW.COM