1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

جرمنی میں خواتین کا پہلا آٹو ہاؤس، ایک سنگ میل

یورپی یونین کے سب سے زیادہ آبادی والے ملک اور سب سے بڑی یورپی معیشت جرمنی میں گزشتہ سال اکتوبر سے کاروں کی فروخت اور مرمت کا ایک ایسا شوروم کام کر رہا ہے، جہاں صرف خواتین کام کرتی ہیں۔

default

سینیوریتا ماریا کی بزنس مینیجر ماریا ایرکنر

یہ آٹو ہاؤس Senorita Maria کہلاتا ہے۔ Erkner Maria نامی ایک چوبیس سالہ بزنس وومین نے اپنے آٹو ہاؤس کا نام Maria اس لئے رکھا کہ اِس ادارے کی بزنس مینیجر کے طور پر یہ اُن کا اپنا نام ہے۔ Senorita اس لئے رکھا کہ اس نام کے ذریعے جرمن کار ساز ادارے فوکس ویگن کی ایک ہسپانوی ذیلی کمپنی Seat کے لئے خواتین خریداروں کی توجہ حاصل کی جا سکے۔

06.07.2010 DW-TV Made in Germany senorita maria 1

جرمنی میں اپنی نوعیت کے اس وا‌حد شوروم میں ایک خاتون مکینک ایک گاڑی کا معائنہ کرتے ہوئے

ماریا ایرکنر کہتی ہیں کہ عام طورپر جب کوئی خاتون مردانہ عملے والے کسی شو روم میں جاتی ہے، تو اکثر اس کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے مرد حضرات مسکرانا بھی شروع کر دیتے ہیں۔ لیکن ماریا کے شو روم کی خاص بات یہ ہے کہ اس آٹو ہاؤس میں آنے والی ہر خاتون اور اس کے ہر سوال کے جواب میں مکمل پیشہ ورانہ سنجیدگی کا مظاہرہ کیا جاتا ہے۔

ماریا کے مطابق: ’’ظاہر ہے کہ کسی بھی خاتون کے لئے کسی شو روم میں جانا شرمندگی کا باعث نہیں ہونا چاہئے۔ ہو سکتا ہے کہ ایسی کوئی خاتون ایسے سوال بھی پوچھے، جو بہت دانشمندانہ نہ ہوں۔ لیکن ایسی کسی بھی خاتون کو اس وجہ سے جھجھکنا نہیں چاہئے کہ اسے تکنیکی حوالے سے کوئی تجربہ نہیں ہے۔ اسی لئے خواتین گاہکوں کے ساتھ کھلے ماحول میں بات کرنا بہت ضروری ہے۔‘‘

اس شوروم کے قیام کا مقصد زیادہ سے زیادہ خواتین کو اپنی طرف متوجہ کرنا تھا لیکن وہاں آنے والے گاہک ابھی تک اکثر مر د ہی ہوتے ہیں۔ اکتوبر 2009ء میں جب سے اس ادارے کا قیام عمل میں آیا ہے، تب سے اب تک کل 640 گاہک وہاں سے گاڑیاں خرید چکے ہیں۔ ان میں خواتین کی تعداد دو سو سے بھی کم تھی۔ یہ سب خواتین وہاں نئی گاڑیاں خریدنے کے لئے آئی تھیں۔

Volkswagen Polo made in Russland

Seatجرمن کمپنی فوکس ویگن کا ایک ہسپانوی ذیلی ادارہ ہے

سینیوریتا ماریا شوروم میں کام کرنے والی سبھی خواتین نوجوان ہیں۔ ان کی عمریں 19 اور 26 برس کے درمیان ہیں۔ اس کے باوجود جب وہ اپنے شوروم پر آنے والے گاہکوں سے گفتگو کرتی ہیں، تو گاہک ان کی بات توجہ سے سنتا ہے، سارے نہیں تو کم ازکم زیادہ تر گاہک۔

اس آٹو ہاؤس میں گاہکوں کو مشورے دینے والی کارکن کا نام جینیفر دامبَیک ہے۔ انہوں نے بتا یا کہ ایک مرتبہ ’’ہمارے پاس ایک ایسا گاہک بھی آیا جو صرف یہ دیکھنا چاہتا تھا کہ ہمارے ہاں کام کیسے ہوتا ہے۔ اس نے اپنی گاڑی کے ٹائر تبدیل کروائے اور پھر باقی کام کروانے کے لئے کسی دوسری ورکشاپ میں چلا گیا۔ اس نے ہم پر اس لئے اعتماد نہیں کیا کہ یہاں صرف خواتین کام کرتی ہیں۔ لیکن ایسا صرف ایک ہی بار ہوا ہے۔‘‘

سینیوریتا ماریا نامی یہ شوروم جرمن دارالحکومت برلن کے نواح میں ہیننگزڈورف نامی ایک چھوٹے سے شہر میں کام کر رہا ہے۔ اس کی اپنی ایک ویب سائٹ بھی ہے، جس کا پتہ ہے: Senorita-Maria.de

اپنے اولین کاروباری منصوبے کی کامیابی سے مطمئن اس ادارے کی بزنس مینیجر ماریا اَیرکنر کوکافی حد تک یقین ہے کہ اگلے سال وہ جرمن دارالحکومت برلن میں ایسا ہی ایک دوسرا آٹو ہاؤس بھی کھول لیں گی۔

رپورٹ: مقبول ملک

ادارت: امجد علی

DW.COM

ویب لنکس