جرمنی میں حکومت سازی کی کوششیں: نیوز بلیک آؤٹ پر اتفاق | حالات حاضرہ | DW | 04.01.2018
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جرمنی میں حکومت سازی کی کوششیں: نیوز بلیک آؤٹ پر اتفاق

جرمن سیاسی جماعتوں سی ڈی یو اور  ایس پی ڈی نے آئندہ ہفتے نئی حکومت کے قیام کے لیے ایک ممکنہ ’وسیع اتحاد‘ بنانے کے لیے شروع ہونے والے مذاکرات کے دوران نیوز کا مکمل بلیک آؤٹ کر نے پر اتفاق کیا ہے۔

کرسچین ڈیموکریٹک یونین ، اِس کی اتحادی سیاسی جماعت سی ایس یو اور اِن کے ساتھ سوشل ڈیموکریٹک پارٹی کا اتحاد جرمن چانسلر میرکل کے پاس حکومت بنانے کا واحد راستہ نظر آتا ہے۔

گزشتہ برس انتخابات کے بعد میرکل ان دونوں جماعتوں کے ساتھ اتحاد بنانے میں ناکام رہی تھیں۔ اتحاد نہ بن پانے کا ذمہ دار اُن سیاست دانوں کو ٹھہرایا گیا تھا جنہوں نے مذاکرات کے سلسلے میں ہونے والی ملاقاتوں اور اجلاسوں کے بعد کچھ معلومات صحافیوں کو بتا دی تھیں۔

اب جرمن چانسلر  انگیلا میرکل، سی ایس یو کے سربراہ ہورسٹ زیہوفر اور ایس پی ڈی کے سربراہ مارٹن شُلز نے آپس میں طے کیا ہے کہ مذاکرات کرنے والے شرکاء کو ہر گز اس بات کی اجازت نہیں ہوگی کہ وہ مذاکرات کے دوران میڈیا سے بات چیت کریں۔

جرمن جریدے اشپیگل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق تینوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ مذاکرات میں شامل افراد ایک دوسرے کا اعتماد قائم رکھیں گے اور میڈیا کے ساتھ  معلومات کا تبادلہ نہیں کریں گے۔

جرمنی کی اِن بڑی سیاسی جماعتوں نے آج بروز بدھ اس امید کا اظہار کیا ہے کہ ملک میں بالآخر نئی حکومت کا قیام ممکن ہو سکے گا۔  دوسری عالمی جنگ کے بعد ایسا پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ عام انتخابات کے لگ بھگ چار ماہ بعد بھی وفاقی حکومت نہیں بن پائی۔

سی ایس یو، سی ڈی یو اور ایس پی ڈی کے رہنماؤں نے آج ہونے والی ملاقات میں ایک دوسرے پر اعتماد بڑھانے کی بات کی ہے جو کہ میرکل کے لیے ایک اچھی خبر  ہے کیوں کہ اس مذاکراتی عمل کی کامیابی کا مطلب ہے کہ وہ ایک مرتبہ پھر جرمن عوام کی چانسلر بن سکتی ہیں۔  اس دور کے ابتدائی مذاکرات کا آغاز آئندہ اتوار سے ہو گا اور توقع ہے کہ چند ہفتوں میں کوئی اہم فیصلہ سامنے آسکتا ہے۔

نیوز ایجنسی روئٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایس پی ڈی کی قیادت کا کہنا ہے کہ اس جماعت کے اراکین 21 جنوری کو ووٹ کے ذریعے یہ فیصلہ کریں گے کہ ایس پی ڈی کو وسیع اتحاد کا حصہ بننا چاہیے یا نہیں۔ دوسری جانب میرکل کی قدامت پسند اتحادی جماعت سی ایس یو نے ایس پی ڈی کو خبردار کیا ہے کہ وہ اتحاد قائم کرنے کے لیے بہت زیادہ مطالبات نہ کریں۔ ساتھ ہی یہ جماعت اپنے ووٹرز کو یہ بھی بتانا چاہتی ہے کہ وہ مہاجرت جیسے حساس موضوعات پر سمجھوتہ نہیں کرے گی۔

 سی ایس یو کے رہنما ہورسٹ زیہوفر  نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا،’’ ہمیں یہ ’وسیع اتحاد‘ چاہیے اور اس اتحاد کی تکمیل تب ہی ممکن ہو سکتی ہے اگر ہمارے اتحادی بہت زیادہ مطالبات نہ کریں۔‘‘  زیہوفر  نے یہ واضح کیا کہ سی ایس یو کی جانب سے پناہ گزینوں سے متعلق قوانین کو سخت کرنے کی تجویز کا مقصد ایس پی ڈی کو پریشان کرنا نہیں ہے بلکہ یہ بتانا ہے کہ ہم کیا چاہتے ہیں۔

جرمنی میں 2018ء کا استقبال نئی وفاقی حکومت کے بغیر ہی

مارٹن شلس میرکل سے مذاکرات پر آمادہ

جرمنی سے اپنے ملک رضاکارانہ ملک بدری، کيا کيا مل سکتا ہے؟

اس وقت میرکل پر ایس پی ڈی کے ساتھ اتحاد بنانے کا دباؤ بہت زیادہ بڑھ گیا ہے لیکن یہ دونوں جماعتیں ٹیکس اور تارکین وطن کی جرمنی آمد جیسے معاملات پر مختلف آراء رکھتی ہیں۔ 

 

DW.COM