1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

جرمنی میں حاملہ مہاجر خواتین کو کیا سہولیات حاصل ہیں؟

حاملہ مہاجر خواتین کے لیے ایک نئے ملک میں ایک ننھے مہمان کو خوش آمدید کہنا قدرے زیادہ پریشانی کا باعث بن سکتا ہے۔ اسی لیے جرمن حکومت اور متعدد فلاحی تنظیمیں حاملہ مہاجر خواتین کو مدد فراہم کر رہی ہیں۔

یوں تو اُمید سے ہونا ہر ‌خاتون کے لیے ہی کئی طرح کے تناؤ اور پریشانیاں لے کر آتا ہے لیکن ایک اجنبی ملک میں جہاں خود اپنے مستقبل کے حوالے سے بھی خدشات لاحق ہوں ایک حاملہ خاتون کے لیے صورتحال زیادہ پریشان کُن ہو سکتی ہے۔ اسی صورتحال سے بچاؤ کی خاطر جرمن ریاست حاملہ تارکین وطن خواتین کو بھر پور معاونت فراہم کرتی ہے۔

 تارکین وطن کی خبروں کی یورپی ویب سائٹ انفو میگرانٹ کے مطابق  مہاجرین کی پناہ کی درخواست دائر ہونے کے بعد آئندہ پندرہ ماہ کے لیے عام طور پر جرمن حکومت محض شدید بیماری کی صورت میں ہی علاج کی سہولت مہیا کرتی ہے لیکن ایسی خواتین کے لیے صورت حال مختلف ہے جن کے ہاں ولادت ہونے والی ہو۔

جرمنی میں پناہ گزین بینیفٹ ایکٹ کے مطابق،’’ حاملہ اور وہ مہاجر خواتین جن کے ہاں حال ہی میں بچے کی ولادت ہوئی ہو، انہیں بھرپور طبی امداد اور دیکھ بھال، مڈ وائف کی سہولت، دوائیں، مرہم پٹی اور دیگر علاج کی سہولیات فراہم کی جاتی ہیں۔‘‘

ایسے تارکین وطن کو جنہیں پناہ یا تحفظ کا اسٹیٹس حاصل ہو جاتا ہے، یا پھر وہ جنہیں بطور مہاجر پندرہ ماہ کا عرصہ ہو گیا ہو ، وہی طبی سہولیات حاصل ہوتی ہیں جو ایک جرمن شہری کو ملتی ہیں۔ اسی میں زچگی کے اخراجات بھی شامل ہوتے ہیں۔

 

جرمن حکومت کے علاوہ فلاحی تنظیمیں بھی حاملہ مہاجر خواتین کی مدد کرتی ہیں۔ وفاقی وزارت برائے خاندان نے حاملہ خواتین کے لیے ایک ہاٹ لائن سروس بھی شروع کر رکھی ہے جہاں اپنی شناخت ظاہر کیے بغیر فون کر کے اٹھارہ غیر ملکی زبانوں میں معلومات حاصل کی جا سکتی ہیں۔ ان زبانوں میں البانی، عربی، انگریزی، فرانسیسی، کرد، فارسی اور رومانی زبانیں بھی شامل ہیں۔

اس کے علاوہ خاندانی منصوبہ بندی کی ایک جرمن تنظیم ’دی پرو فامیلیا‘ نے بھی اپنی ویب سائٹ پر جرمنی بھر میں اپنی شاخوں کے پتے درج کر رکھے ہیں جہاں سے مہاجر خواتین رہنمائی حاصل کر سکتی ہیں۔

'ڈونم ویٹائے‘ نامی آرگنائزیشن نے ایک ایسا پروگرام شروع کر رکھا ہے، جس کے تحت جرمنی میں تیس مقامات پر حاملہ خواتین کی مدد کی جاتی ہے جبکہ ’میڈی بیوروز‘ نامی تنظیم بغیر دستاویزات والے مہاجرین کو بھی طبی امداد فراہم کرتی ہے۔

DW.COM