1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

جرمنی میں جوہری بجلی گھروں کی مدت استعمال میں توسیع

جرمنی میں جوہری بجلی گھروں کی مدت استعمال میں اضافے کا فیصلہ ہوگیا ہے جس کے تحت ان پلانٹس کی مدت اوسطاﹰ بارہ سال تک بڑھا دی گئی ہے۔ برلن کی مخلوط حکومت میں شامل جماعتوں نے اس اتفاق رائے تک پہنچنے سے قبل طویل مذاکرات کئے۔

default

جرمنی میں موجود سترہ جوہری بجلی گھروں میں سب سے پرانے کی مدت 2021ء میں ختم ہونے جارہی ہے۔ نئی پالیسی کے تحت سب سے پرانے پلانٹ کی مدت میں مزید آٹھ جبکہ سب سے نئے کی مدت میں مزید بارہ سال کی توسیع کی گئی ہے۔

جرمنی کے وزیر ماحولیات نوربیرٹ روئٹگین نے برلن میں صحافیوں کو نئی پالیسی کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔ ان کے بقول اتحادی جماعتیں اس بات پر متفق ہوچکی ہیں کہ پرانے پلانٹس مزید آٹھ سال تک کام کرتے رہیں گے جبکہ مختلف ٹیکنالوجی کے تحت کام کرنے والے نئے پلانٹس کی پہلے سے مقررہ مدت میں چودہ سال کی توسیع کی جائے گی۔

جرمنی میں توانائی کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ نئی پالیسی ترتیب دی گئی ہے۔ اتحادی جماعتوں کے درمیان طے پانے والا حالیہ سمجھوتہ توانائی کے شعبہ سے متعلق وسیع تر منصوبے کی بنیاد ہے جس کا احاطہ رواں ماہ ہی کردیا جائے گا۔

Deutschland Energiereise Angela Merkel in AKW Lingen

جرمن چانسلر پیر کو اس صورتحال پر اپنا ردعمل ظاہر کریں گی

جس موقع پر یہ مذاکرات ہورہے تھے عین اسی وقت برلن میں ماحول دوست تنظیموں کے سینکڑوں کارکن حکومت کے خلاف سراپا احتجاج تھے۔ بہت سے حلقے جوہری بجلی گھروں کے غیر محفوظ ہونے اور جوہری فاضل مادوں کو ٹھکانے لگانے سے جڑے سوالات کو لے کر چانسلر انگیلا میرکل پر انگلیاں اٹھارہے ہیں۔ حزب اختلاف کی جماعت ایس پی ڈی نے عندیہ ظاہر کیا ہے کہ حکومت نے اس بل کو پارلیمان کے ایوان بالا سے منظور کرائے بغیر قانونی شکل دینا چاہی تو وہ قانونی کارروائی کریں گے۔

جرمن وزیر ماحولیات نے البتہ واضح کیا کہ نئی پالیسی کے تحت توانائی کے قابل تجدید ذرائع پر سالانہ چار ارب یورو تک خرچ کئے جائیں گے جو خوش آئند ہے۔ ان کے مطابق جوہری بجلی کی تقسیم پر مامور ادارے فی میگا واٹ کے حساب سے نو یورو حکومت کو ادا کریں گی جو توانائی کی قابل تجدید ذرائع پر خرچ کئے جائیں گے۔ جرمن چانسلر انگیلا میرکل اس صورتحال پر پیر کو خیالات کا اظہار کریں گی۔

رپورٹ: شادی خان سیف

ادارت: ندیم گِل

DW.COM

ویب لنکس