1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

جرمنی میں جنونی نوجوان کی فائرنگ، وجوہات کیا تھیں؟

جرمنی ميں ايک اسکول ميں ايک طالب علم کی اندھادھند فائرنگ اوراس کے نتيجے ميں ہونے والی اموات کے بعد اس کی وجوہات اورروک تھام کے اقدامات کے بارے ميں بحث زور شور سے جاری ہے ۔

default

اس واقعے میں سولہ افراد ہلاک ہو گئے تھے

کئی حلقے يہ مطالبہ کررہے ہيں کہ انٹرنيٹ اورٹی۔ وی پر مار دھاڑاورقتل کی فلمز اورگيمز کو بند کيا جائے۔

جرمنی کے وفاقی صوبے بادن وورٹمبرگ کے ايک چھوٹے سے مقام ونينڈن کے ايک اسکول ميں ايک سترہ سالہ لڑکے کی اندھا دھند فائرنگ کے بعد يہ بحث ملک کے تمام حلقوں ميں جاری ہے کہ ايک نوجوان نے يہ سفاکانہ اور وحشيانہ کام کيوں کيا ۔ متعلقہ حکام اس معمے کو حل کرنے ميں سرگردان ہيں اور اسی سلسلے ميں اس نوجوان قاتل کے کمپيوٹر پر کاؤنٹراسٹرائک اوردوسرے قاتلانہ گيمزملے ہيں۔ اس تناظر ميں بہت زيادہ ماردھاڑوالے اور وحشيانہ کمپيوٹر گيمز کو ممنوع قرار دينے کے مطالبات کئے جارہے ہيں۔

پوليس کا کہنا ہے کہ مجرم کے کمپيوٹر پرملنے والے گيمز، ايک اندھا دھند قتل کرنے والے کی شخصيت سے عين مطابقت رکھتے ہيں۔ جرمنی کے صوبے باويريا کے وزيرداخلہ نے کہا:’’ايسے بہت سے وحشيانہ کمپيوٹر کھيل ہيں جن ميں خود کھيلنے والا بھی مار دھاڑ کرنے والے کا رول ادا کرتا ہے اور خود اپنا تشخص ايک ايسے فرد کے طور پرکرتا ہے جو دوسرے انسانوں پر بے رحمی سے گولياں چلاتا ہے۔ ميرے خيال ميں اس قسم کے گيمز کو ممنوع ہونا چاہئے۔‘‘

Amoklauf Winnenden

اسکول کے بچے قتل ہونے والے اپنے ساتھیوں کے لئے موم بتیاں روشن کر رہے ہیں

جرمنی ميں اب تک يہ ضابطہ ہے کہ پرتشدد مناظر والے کمپيوٹرکھيلوں کی جانچ پڑتال کی جاتی ہے اورضرورت ہو توانہيں نوجوانوں کے لئے ممنوع قراردے ديا جاتا ہے۔ ليکن يہ ضابطہ زيادہ کارگر نہيں ہے۔ جرمنی کی جرائم کے انسداد کی فاؤنڈيشن نے بھی مکمل ممانعت کا مطالبہ کيا ہے۔

تاہم يہ واضح نہيں ہے کہ انٹرنيٹ سے ڈاؤن لوڈ کو کس طرح سے روکا جاسکتا ہے۔ جرمن وفاقی وزيرداخلہ کے خيال ميں اندھا دھند فائرنگ اورقتل کے ايسے جرائم کے پيچھے ايک معاشرتی مسئلہ پوشيدہ ہے۔

’’سوال يہ ہے کہ ہمارے معاشرے ميں کيا مسائل ہيں۔ کيا ہميں اقدارکی تعليم پرزيادہ توجہ دينا چاہئے۔ کيا ہميں گھرانوں اور خاندانی رشتوں کو زيادہ مضبوط بنانا چاہئے۔ کيا ہمارے ذرائع ابلاغ ميں تشدد کے اظہار پر زيادہ پابندی کی ضرورت ہے۔‘‘

جرمنی کی صحافيوں کی ايسوسی ايشن نے اسکول ميں فائرنگ کی واردات کے اگلے دن ہی رپورٹنگ ميں احتيا ط کی اپيل کی اور کہا کہ سنسنی پھيلانے سے گريز کيا جائے۔ جرمن وزيرداخلہ اورپوليس کی ٹريڈ يونين کے چيرمين نے اسکولوں ميں دھاتی آلات کی شناخت کرنے والے ڈيٹيکٹرز نصب کرنے کی مخالفت کی۔ تاہم پوليس ٹريڈ يونين کے چيرمين نے کہا کہ طلباء اوراساتذہ کو چپ کارڈ دئے جانا چاہئيں۔ اس طرح اسکولوں کوچوری اور منشيات سے بھی پاک کيا جاسکتا ہے۔‘‘

جرمنی ميں سات سال پہلے ايرفورٹ کے اسکول ميں اسی طرح کے قتل عام کے بعد سے اسلحے کے ضوابط سخت کردئے گئے ہيں، ليکن ونينڈن کے سترہ سالہ حملہ آورکے والد نے اپنے اسلحے کی حفاظت کے ان ضوابط کی خلاف ورزی کی۔