1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

جرمنی میں تنہا مہاجر بچے

جرمنی میں گزشتہ برس پہنچنے والے گیارہ لاکھ مہاجرین میں قریب پندرہ ہزار ایسے مہاجر بچے بھی شامل ہیں، جن کے ساتھ ان کے قانونی نگران موجود نہیں۔ یہ بچے بغیر والدین کے افغانستان، شام اور عراق سے جرمنی پہنچے ہیں۔

جنگ زدہ ملکوں سے جرمنی پہنچنے والے ان تنہا بچوں کی مجموعی تعداد 14 ہزار چار سو 29 ہے، جنہوں نے گزشتہ برس جرمنی میں سیاسی پناہ کی درخواست کی۔ حکام کے مطابق ان میں اکہتر فیصد کی عمر سولہ تا سترہ برس کے درمیان ہے، جب کہ اٹھائیس فیصد 16 برس سے کم عمر کے ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ ان میں سے کئی ماضی کے لرزہ خیز مناظر کے دھچکوں کی وجہ سے ذہنی تناؤ جیسے مسائل کا شکار ہیں۔

جرمنی میں بچوں کی امداد کی تنظیم ڈوئچے کنڈر ہِلفے ویرک کے مطابق یہ تنہا بچے ممکنہ طور پر بلقان کے راستے جرمنی پہنچے اور اس طویل اور تکلیف دہ سفر کے دوران غالباﹰ اپنے ماں باپ سے جدا ہو گئے۔

Deutschland Unbegleitete minderjährige Flüchtlinge

جرمنی میں گزشتہ برس 18 برس سے کم عمر کے پندرہ ہزار تنہا بچے داخل ہوئے

ایسے بچوں کے رجسٹریشن مراکز پہنچنے پر وہاں موجود افسران اس بات کا تعین کرتے ہیں کہ ان بچوں کو کس قسم کی مدد درکار ہے، اس کے علاوہ یہ بھی دیکھا جاتا ہے کہ انہیں مہاجر کیمپوں میں رکھا جائے یا گروپ گھروں میں، اس کی وجہ یہ بات یقینی بنانا ہے کہ ان بچوں کا نفسیاتی اور جسمانی تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

حکام کے مطابق اس کے بعد ان بچوں کی ضروریات کو سمجھتے ہوئے انہیں جرمنی کے 16 صوبوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔

جرمنی کی جنوبی ریاست باویرا، جو مہاجرین کو پناہ دینے کے اعتبار سے جرمنی کے دیگر صوبوں سے آگے ہے، میں بھی سن 2014ء کے مقابلے میں گزشتہ برس زیادہ تعداد میں ایسے بچے پہنچے جن کے ہم راہ ان کے والدین یا ورثاء نہیں تھے۔

بتایا گیا ہے کہ باویریا میں ایسے بچوں میں سے نصف کا تعلق افغانستان سے ہے، جب کہ ساڑھے سترہ فیصد شامی، دس فیصد اریٹرین اور ساڑھے سات فیصد صومالی ہیں۔ باویریا کی ریاستی وزارت برائے سماجی بہبود کے مطابق ان بچوں کو ان کی ضرویات کے مطابق مختلف رہائش گاہوں میں رکھا گیا ہے۔