1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

جرمنی میں تارکین وطن کی کرسمس

نومبر کے آخری ہفتے کے دوران سجائے گئے خصوصی کرسمس بازار 24 دسمبر کو بند کردئے گئے ہیں۔ جرمنی میں اس تہوار میں تارکین وطن کی ایک بڑی تعداد نے بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ہے۔

default

ہر جانب برقی قمقمے، سرخ رنگ، ہنستے مسکراتے چہرے، شہر کے مختلف مقامات پر خصوصی طور پر تیار کئے گئے بازار، جن میں انتہا کا رش اور تحفے تحائف خریدتے ہوئے افراد۔ کرسمس سیزن میں یہی مناظر دیکھنے کوملتے ہیں۔ اکثر دکانوں سے تازہ بسکٹس اور دیگر روایتی کھانوں کی مہک اور خاص انداز کی سجاوٹ اس منظرکوچار چاند لگا دیتے ہیں۔ ہرگزرتا ہوا دن اس گہما گہمی میں اضافہ کرتا چلا جاتا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق جرمنی میں خراب موسم کی وجہ سے تحائف کی خرید و فروخت میں کچھ کمی آئی ہے۔ تاہم اس کے باوجود لوگوں کی ایک بڑی تعداد نےکرسمس کے لئے خصوصی طور پر تیار کئے گئے بازاروں کا رخ کیا۔ ان میں جرمنی میں آباد تارکین وطن کی بھی ایک بڑی تعداد شامل تھی۔

Flash-Galerie Weihnachtsmärkte

دارالحکومت برلن میں خصوصی طور پر سجائے گئے کرسمس کے بازار کا فضائی منظر

شنائڈر فیملی کا تعلق روس سے ہے۔ میشائیل اورالینا شنائڈر گزشتہ دس برسوں سے ڈوسلڈورف شہر میں رہتے ہیں۔ ان کے دونوں بیٹے جرمنی میں ہی پیدا ہوئے ہیں۔ روس میں زیادہ تر آرتھوڈوکس کرسچن ہیں۔ اسی لئے وہاں کرسمس آٹھ جنوری کو منائی جاتی ہے۔ الینا کا کہنا ہے کہ اپنے دونوں بیٹوں کی وجہ سے ہی ان کے گھر میں کرسمس نئے انداز اور نئے وقت پر منائی جاتی ہے۔ اس نے مزید بتایا جس طرح جرمن باشندے اپنے گھرکی تزئین و آرائش کرتے ہیں وہ بھی بالکل اسی طرح اپنے گھرکو سجاتی ہیں۔ بچوں نے یہ سکول سے سیکھا ہے اور کچھ چیزیں دوستو نے انہیں بتائی ہیں۔

شنائڈر خاندان پچیس دسمبر اور آٹھ جنوری یعنی دو مرتبہ کرسمس مناتا ہے۔ الینا کا کہنا ہے کہ اس طرح وہ دونوں ثقافتوں سے جڑی ہوئی ہیں۔ ان کے بقول وہ چھ ہفتوں تک کرسمس مناتی ہیں، ’’جرمنی میں نومبر کے آخر سے تیاریاں شروع ہو جاتی ہیں۔ اسی طرح جنوری کی آٹھ تاریخ تک یہ چھ ہفتے بنتے ہیں۔ اس کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ دو مرتبہ تحائف دئے جاتے ہیں، ہم دو مرتبہ خوشیاں مناتے ہیں۔ یقیناً بچے بہت ہی خوش ہوتے ہیں۔‘‘

تینتیس سالہ Turgay Turgutمسلمان ہیں اور وہ جرمنی میں پیدا ہوئے ہیں۔ انہیں اپنے بچپن میں کرسمس منانے کا بہت شوق تھا لیکن ان کے والدین کے گھر میں یہ تہوار کبھی بھی نہیں منایا گیا۔ انہوں نے اپنے بچپن کے دنوں پر نظر ڈالتے ہوئے بتایا ’’سکول میں کرسمس سے پہلے سب یہ باتیں کرتے تھے کہ کسےکیا تحفہ ملنے والا ہے۔ ترک بچے ان میں بہت دلچسپی لیتے تھے اورپرتجسس بھی رہتے تھے۔ اس موقع پر ہمارے گھر کو موم بتیوں سے سجایا جاتا تھا۔ سینٹا کلاز بھی موجود ہوتا تھا۔ ہم کرسمس نہیں مناتے تھے، یہ ہمارے لئے ایک چھٹی کے دن سے زیادہ نہیں ہوتا تھا۔‘‘

Deutschland Türkei Fußball EURO 2008

جرمنی میں ترک نژاد شہریوں کی بڑی تعداد بستی ہے جو اپنے آبائی وطن کے ساتھ ساتھ میزبان ملک جرمنی کے لئے بھی دل میں محبت کا جذبہ رکھتے ہیں

Turgay Turgut شادی شدہ ہیں اوران کا ایک سال کا بیٹا ہے۔ اب ان کے گھر میں کرسمس کوکافی اہمیت دی جاتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کرسمس منانے کے لئے مسیحی ہونا ضروری نہیں ہے۔ ترک ہونے کے باوجود وہ اس دن کو اچھی طرح مناتے ہیں۔ ان کے بقول ’’ہم نے اس تہوار کو منانے کا انداز تھوڑا سا تبدیل کر دیا ہے۔ مذہب سے زیادہ اس بات کو فوقیت دی جاتی ہے کہ سب مل کر ایک اچھی شام گزاریں۔ گھر میں کرسمس ٹری لگا ہوا ہو، سجاوٹ ہو۔ کرسمس کا ماحول ہونا بھی لازمی ہے۔ اس موقع پر ہم روایتی چیزیں گھر پرنہیں بناتے بلکہ بازارسے خریدتے ہیں۔ کرسمس کی شام ہم سب مل کر کھانا بھی کھاتے ہیں۔‘‘

کرسمس منانی چاہیے یا نہیں؟ یہ وہ سوال ہے، جس پر جرمنی میں آباد زیادہ تر تارکین وطن دھیان نہیں دیتے۔ چاہے ان کا تعلق کسی بھی ملک یا مذہب سے ہو۔کچھ اس تہوار میں بڑھ چڑھ کرحصہ لیتے ہیں تو کسی کی شرکت کچھ کم بھی ہوتی ہے۔ بہرحال یہ حقیقت ہے کہ کرسمس سب کے لئے اپنے گھر والوں کے ساتھ وقت گزارنے کا ایک اچھا موقع ہوتا ہے۔

رپورٹ : عدنان اسحاق

ادارت : شادی خان سیف

DW.COM