1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

جرمنی میں تارکین وطن کی تعداد 11 ملین تک پہنچ گئی

جرمن حکام کے مطابق ملک میں گزشتہ برس تارکین وطن کی تعداد 3.7 فیصد اضافے کے ساتھ 11 ملین تک پہنچ گئی۔ جرمنی کے وفاقی دفتر شماریات کے مطابق تارکین وطن کا پس منظر رکھنے والوں کی تعداد ملک کی کُل آبادی کا 20 فیصد ہو گئی ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ان اعداد و شمار سے اندازہ ہوتا ہے کہ یورپ کی سب سے بڑی معیشت جرمنی کا غیر ممالک میں پیدا ہونے والی افرادی قوت پر انحصار بڑھتا جا رہا ہے۔ تارکین وطن کی تعداد میں اضافے کی ایک اور وجہ جرمنی کی طرف سے سیاسی پناہ کے متلاشی لاکھوں لوگوں کو اپنے ہاں پناہ دینا بھی ہے۔

روئٹرز کے مطابق جرمنی میں تارکین وطن کی ایک بڑی تعداد دیگر یورپی ممالک مثلاً پولینڈ، رومانیہ، اٹلی، بلغاریہ اور ہنگری سے تعلق رکھتی ہے۔ گزشتہ برس جرمنی میں رہنے والے تارکین وطن کی تعداد میں 1.5 ملین کا اضافہ ہوا۔ یہ تعداد 2011ء کے مقابلے میں 10 فیصد زائد ہے۔ دوسری طرف تارکین وطن کا پس منظر رکھنے والوں کو منہا کر کے مقامی آبادی کی تعداد میں 1.4 فیصد کمی واقع ہوئی۔

دفتر شماریات کی طرف سے پیر تین اگست کو بتایا گیا کہ 2011ء سے اب تک یورپی یونین کے دیگر ممالک سے جرمنی کا رُخ کرنے والے تارکین وطن کی تعداد 620,000 تک پہنچ گئی ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق شام، چین اور بھارت سے آنے والے تارکین وطن کی تعداد میں بھی اضافہ دیکھا گیا ہے۔

اس رپورٹ کے مطابق ایسے افراد کی تعداد جن میں 1950ء کے بعد جرمنی آنے والے غیر ملکیوں کے بچوں کی تعداد بھی شامل ہے، 16.4 ملین تک پہنچ گئی ہے۔ یہ تعداد ملک کی کُل آبادی 80 ملین کے حساب سے 20 فیصد کے قریب بنتی ہے۔

2011ء سے اب تک یورپی یونین کے دیگر ممالک سے جرمنی کا رُخ کرنے والے تارکین وطن کی تعداد 620,000 تک پہنچ گئی ہے

2011ء سے اب تک یورپی یونین کے دیگر ممالک سے جرمنی کا رُخ کرنے والے تارکین وطن کی تعداد 620,000 تک پہنچ گئی ہے

جرمنی کے وفاقی دفتر شماریات کے مطابق یہ اعداد و شمار ایک سیمپل مردم شماری سے حاصل کیے گئے ہیں۔ یہ دفتر ملک میں تارکین وطن کی تعداد 2005ء سے مرتب کر رہا ہے۔

یہ رپورٹ ایک ایسے موقع پر جاری کی گئی ہے جب جرمنی میں مہاجرین کی بڑھتی ہوئی تعداد کے معاملے پر تناؤ پایا جاتا ہے۔ رواں مہاجرین کی تعداد ریکارڈ 450,000 تک پہنچنے کی توقع ہے جو گزشتہ برس یعنی 2014ء کے مقابلے میں دو گنی سے بھی زائد بنتی ہے۔

روئٹرز کے مطابق گزشتہ ہفتے کرائے جانے والے ایک جائزے سے معلوم ہوا ہے کہ حکومت کی مہاجرین نواز پالیسیز عوامی حمایت کھوتی جا رہی ہیں۔ جرمن حکومت مشرق وُسطیٰ، ایشیا اور افریقہ کے جنگ زدہ علاقوں سے بڑی تعداد میں جرمنی آنے والے مہاجرین کے مسئلے سے نمٹنے کی کوشش میں مصروف ہے تو دوسری طرف سال کے پہلے چھ ماہ میں ایسے مہاجرین کی پناہ گاہوں پر 150 آتشیں حملے کیے جا چکے ہیں۔