1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

جرمنی میں برقعے پر ممکنہ پابندی اور عوامی بحث

بیلجیئم اور فرانس میں مسلم خواتین کی طرف سے برقعہ پہننے پر پابندی سے متعلق قانون سازی کے بعد اب جرمنی میں بھی اس بارے میں بحث جاری ہے کہ آیا اس یورپی ملک میں بھی خواتین کے برقعہ پہننے پر پابندی عائد کی جانا چاہیے۔

default

جرمنی میں برقعے پر ممکنہ پابندی کے حوالے سے صورت حال کیا ہے؟ کیا جرمن سیاستدان اور عوام بھی ایسی کسی پابندی کے حق میں ہیں؟ ان دونو‌ں سوالوں کے جواب قدرے ملے جلے ہیں۔

برقعہ افغانی ہو، جو کسی بھی خاتون کے پورے کے پورے جسم کو ڈھانپ لیتا ہے اور جس میں سے دیکھنے کے لئے جالی لگی ہوتی ہے، یا پھر وہ عربی نقاب جسے استعمال کرنے والی خاتون کی صرف آنکھیں ہی نظر آتی ہیں۔ جرمنی میں مسلمان خواتین کو ان دونوں قسموں کے حجاب کے استعمال کی اجازت ہے۔ ایسے برقعے پہننے والی مسلمان خواتین جرمنی کے تقریبا ہر بڑے شہر میں اس علاقے کی سڑکوں پر اور بازاروں میں نظر آتی ہیں، جہاں غیر ملکی تارکین وطن کی آبادی قدرے زیادہ ہوتی ہے۔

Frau mit Kopftuch Demonstration in Edinburgh Schleier

چہرے کے نقاب میں ایک مسلمان خاتون

جرمنی میں سیاستدان، چاہے ان کا تعلق حکمران جماعتوں سے ہو یا اپوزیشن پارٹیوں سے، یہ سوچ بھی رہے ہیں اور نہیں بھی کہ یورپی یونین کے سب سے زیادہ آبادی والے اس ملک میں بھی مسلمان خواتین کی طرف سے برقعہ پہننے پر پابندی لگا دی جائے۔

برلن کی وفاقی مخلوط حکومت میں شامل جماعت فری ڈیموکریٹک پارٹی FDP کے ایک رکن پارلیمان زَیرکان توئرَین کہتے ہیں کہ جرمنی میں برقعہ پہننے پر ممکنہ پابندی کوئی ایسا سیاسی موضوع نہیں ہے، جس پر آج کل گرما گرم بحث ہوتی ہو۔ وہ خود بھی ان چند سیاستدانوں میں شامل ہیں جو اب تک واضح طور پر برقعہ پہننے پر پابندی لگائے جانے کی حمایت کر چکے ہیں۔

Serkan Tören کہتے ہیں: ’’برقعہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ جو کوئی بھی اسے پہنتا ہے، وہ ہمارے معاشرے سے کوئی واسطہ نہیں رکھنا چاہتا۔ ایسا کوئی بھی انسان نہ تو اپنا سماجی انضمام چاہتا ہے اور نہ ہی اپنے ارد گرد کے معاشرے سے کسی طرح کچھ کہنے سننے پر آمادہ ہوتا ہے۔ یہ وہ باتیں ہیں جو ہماری اقدار کے منافی ہیں اور ہماری جمہوریت کی نفی بھی کرتی ہیں۔‘‘

لیکن زَیرکان توئرَین کے برعکس ماحول پسندوں کی گرین پارٹی کے سماجی انضمام سے متعلقہ سیاسی امور کے ترک نژاد ترجمان Mehmet Kilic کہتے ہیں کہ جرمنی میں برقعہ پہننے پر کوئی عمومی پابندی لگانا غلط ہو گا۔ ’’ہمارا آئین ہی اس کی اجازت نہیں دے گا۔ نہ انسانی حقوق کا یورپی کنونشن اور نہ ہی ایسی کوئی پابندی انسانی حقوق کے عالمگیر کنونشن سے ہم آہنگ ہو گی۔ اب اگر مثال کے طور پر مجھے ذاتی سطح پر برقعہ اچھا نہ لگے، تو بھی ایک جمہوری معاشرے میں مجھے دوسرے لوگوں کے مختلف نظریات کے ساتھ مل کر رہنا تو سیکھنا ہی ہو گا۔‘‘

Deutschland Düsseldorf Gericht bestätigt Kopftuch-Verbot

جرمن شہر ڈوسلڈورف میں حجاب میں ایک مسلمان خاتون

وفاقی جرمن چانسلر انگیلا میرکل کی پارٹی CDU سے تعلق رکھنے والے Günter Krings کے بقول جرمن سیاستدان فی الحال ایسی پارلیمانی کوششو‌ں کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے کہ برقعہ پہننے پر پابندی لگائی جا سکے۔

گُنٹر کرِنگز کہتے ہیں: ’’اپنے پورے جسم کو برقعے سے ڈھانپ لینے والی خواتین اور ان کا یہ رویہ انہیں ہمارے معاشرے میں مسلسل اجنبی بنائے رکھتا ہے اور آئندہ بھی یہ اجنبیت برقرار رہے گی۔ اس کا نقصان معاشرے کو ہوتا ہے۔ لیکن میری رائے میں ریاست کا کام یہ نہیں کہ پورے ملک میں برقعہ پہننے کو بالعموم غیر قانونی قرار دے دے۔ میری سوچ یہ ہے کہ اس بارے میں بیلجیم اور فرانس بہت ہی آگے تک چلے گئے ہیں۔‘‘

جہاں تک اس بارے میں جرمن باشندوں کے رویے کا سوال ہے تو ان میں سے کچھ برقعے پر پابندی کے حق میں ہیں اور کچھ خلاف۔ لیکن ایک بڑی تعداد اس نظریے کی حامل بھی ہے کہ برقعہ پہننا یا نہ پہننا یا ایسا ہی کوئی دوسرا فیصلہ کسی بھی فرد کا ذاتی معاملہ ہے، جس میں کسی دوسرے فرد یا ادارے کو مداخلت نہیں کرنی چاہیے۔

رپورٹ: مقبول ملک

ادارت: عاطف بلوچ

DW.COM