1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جرمنی میں ایک شامی شہری کو تین سال کی سزائے قید

جرمنی کی ایک عدالت نے ایک شامی باشندے کو تین برس کی سزائے قید سنا دی ہے۔ اس پر الزام ثابت ہو گیا تھا کہ وہ ایک غیر ملکی دہشت گرد تنظیم کا رکن تھا۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس نے جرمن عدالتی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ اشٹٹ گارٹ کی ایک عدالت نے ایک شامی شہری کو ایک غیر ملکی دہشت گرد تنظیم کا رکن ہونے کے جرم میں تین سال کی سزائے قید سنا دی ہے۔ عدالت  نے فیصلہ منگل کے دن سنایا۔

بم سازی کی کوشش، جرمنی میں ایک مہاجر کا جرم ثابت ہو گیا
جرمنی، داعش کے مشتبہ کارکنوں کی تلاش میں چھاپے

جرمنی میں داعش کا پہلا حملہ کرنے والی لڑکی کو سزائے قید

اس شخص کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی اور نہ ہی یہ بتایا گیا ہے کہ وہ کس حیثیت سے جرمنی آیا تھا۔ صرف یہ کہا گیا ہے کہ وہ سن دو ہزار پندرہ میں جرمنی آیا تھا۔

نیوز ایجنسی اے پی نے عدالتی حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ یہ شامی شہری سن دو ہزار چودہ اور پندرہ کے دوران شام میں القاعدہ سے وابستہ شدت پسند تنظیم النصرہ فرنٹ کا رکن رہا تھا۔

ویڈیو دیکھیے 04:48

کیا پاکستان کو داعش سے خطرہ ہے؟

مقدمے کی سماعت کے دوران عدالت کو بتایا گیا تھا کہ یہ شخص جب شام میں فعال تھا تو وہ انتہا پسند گروہوں کی مختلف چیک پوائنٹس پر مشین گن سے لڑائی میں بھی حصہ لیتا رہا تھا۔

اس شامی باشندے کے وکیل صفائی نے موقف اختیار کیا تھا کہ وہ دراصل النصرہ فرنٹ کے رکن کے طور پر شام میں سرگرم انتہا پسند گروہ داعش کے خلاف لڑتا رہا تھا۔

وکیل صفائی کے مطابق یہ وہی دہشت گرد گروہ ہے، جس کے خلاف عالمی جنگ بھی جاری ہے۔

تاہم عدالت کے فیصلے کے مطابق کسی دہشت گرد گروپ کا رکن ہونا کوئی قابل برداشت جواز نہیں، بے شک اس طرح کوئی ملزم کسی دوسری دہشت گرد تنظیم کے خلاف لڑائی ہی کیوں نہ لڑتا رہا ہو۔

یہ امر اہم ہے کہ یورپی ممالک میں حالیہ عرصے کے دوران متعدد دہشت گردانہ حملے ہو چکے ہیں۔ اسی لیے جرمنی سمیت دیگر یورپی ممالک میں ایسے کسی بھی ممکنہ حملے کے پیش نظر سکیورٹی ہائی الرٹ رکھی گئی ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ شام اور عراق میں داعش کو پہنچنے والے نقصانات کے باعث اس دہشت گرد تنظیم کے ارکان یورپ سمیت دیگر خطوں اور ممالک کی طرف فرار ہونے کی کوشش میں ہیں۔ ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ شدت پسند اب یورپ کے بڑے شہروں کو بھی نشانہ بنا سکتے ہیں۔

DW.COM

Audios and videos on the topic