1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

جرمنی میں اکتوبر میں دہشت گردانہ حملوں کی دھمکی

انٹرنيٹ پر دی جانے والی بہت سی دھمکيوں ميں يہ کہا گیا ہے کہ اکتوبر کے مہينے ميں اسلامی شدت پسند جرمنی ميں دہشت گردانہ حملے کا منصوبہ بنا رہے ہيں۔

default

اس لئے ہوائی اڈوں، ريلوے اسٹيشنوں اور دوسرے مقامات پر حفاظتی انتظامات کو بہتر بنا ديا گيا ہے۔ شدت پسندوں کا مطالبہ ہے کہ جرمن فوج کو افغانستان سے واپس بلا ليا جائے۔

انٹرنيٹ کے جن صفحات يا ويب سائٹس پر اسلام اور جہاد کا نام لينے والے شدت پسند اپنا پراپيگنڈا اور دھمکی آميز مواد پيش کررہے ہيں ان کے نام شہيدوں کا دور يا الفلوجا جيسے ہوتے ہیں اور انہيں راتوں رات بدل بھی ديا جاتا ہے۔ تاہم جو شدت پسند مسلم نوجوان ہيں ان ميں سے اکثر يہ ڈھونڈ ہی ليتے ہيں کہ وہ ان ويب سائٹس کو دوبارہ کہاں تلاش کرسکتے ہيں اور وہ دہشت گرد تنظيم القاعدہ کے ويڈيوز کہاں ديکھ سکتے ہيں۔ ان ويڈيوز کو دنيا بھر کے ڈاؤن لوڈ لنکس پر ڈال ديا جاتا ہے اور مقصد يہ ہوتا ہے کہ انہيں مغربی ملکوں کے سلامتی کے ماہرين کے روکنے سے پہلے ہی جلد ازجلد ہر جگہ پھيلا دیا جائے۔ ويڈيوز عام طور پر عربی،ترکی یا روسی زبانوں ميں ہوتے ہيں۔

Deutsche Soldaten auf dem Weg nach Afghanistan

اس قسم کے تشدد پر اکسانے والے مواد کو نشر کرنا اور پھيلانا جرمنی ميں قابل سزا ہے اور اکتوبر کے شروع ميں ايک ترک کو جرمنی ميں اسی وجہ سے گرفتار بھی کيا جاچکا ہے۔ يہ پچيس سالہ ترک جہاد کے نام پر تشدد کے لئے اکسا رہا تھا۔ اکتوبر ہی ميں جرمنی کے اٹارنی جنرل نے ايک اور ترک نژاد جرمن کو اسی طرح کا اشتعال انگيز مواد پھيلانے اور دھماکہ خيز مادے کا تجربہ اور اس کے استعمال کی تربيت دينے کے الزام ميں گرفتار کرليا۔ جرمنی ميں دو نوجوانوں نے انٹرنيٹ ويڈيو کے ذريعے ہی بم بنانے کا طريقہ سيکھا اور سن 2006ء ميں انہوں نے بم تيار کرنے کے بعد ان کے ذريعے ٹرين ميں دھماکہ کرنے کی ناکام کوشش بھی کی تھی۔ يہی نہيں انہوں نے اپنی اس دہشت گردی کو اسلام کے عين مطابق ثابت کرنے کے لئے انٹرنيٹ پر کسی ويب سائٹ سے فتوے تک حاصل کرلئے تھے۔

جرمن حکام ايک اور نئی صورتحال کا مشاہدہ بھی کررہے ہيں: پچھلے بارہ مہينوں کے دوران بہت سے جرمن شہريت رکھنے والے مسلمان افغانستان اور پاکستان کے سرحدی علاقوں اور شمالی افريقہ ميں دہشت گردی کی تربيت کے کيمپوں کا رخ کررہے ہيں۔بعض اوقات حکام کو ان افراد کے ملک چھوڑنے کا علم ان کے سفر کے بعد ہی ہوتا ہے۔ تاہم جرمن شہريت رکھنے والوں کے خلاف کارروائی کے سلسلے ميں امکانات بہت محدود ہوتے ہيں، خاص طور پر اس وجہ سے کہ عام طور سفر کی پہلی منزل استنبول يا ايمسٹرڈيم ہوتی ہے۔ دہشت گردی کی تربيت حاصل کرنے کے لئے خشکی کے راستے ترکی اور ايران سے گذرتے ہوئے پاکستان کا سفر ايک پسنديدہ طريقہ ہے۔ پچھلے برسوں کے دوران اس قسم کے ايک سو اسی افراد جرمنی سے اس قسم کے سفر کرچکے ہيں۔ وہ واپس آنے کے بعد ملک کے اندر بہت خطرناک سمجھے جاتے ہيں، اور ملک سے باہر وہ افغانستان کے حوالے سے جرمن فوج کے لئے انتہائی خطرناک ہيں۔

رپورٹ: شہاب احمد صديقی

ادارت: عدنان اسحاق