1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

جرمنی میں انٹرنیٹ کے پچیس سال

دو اگست 1984ء کے دن امریکہ سے جو پہلی ای میل جرمنی پہنچی تھی وہ میسی چیوسیٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی سے بھیجی گئی تھی۔

default

جرمنی میں انٹرنیٹ کی سہولت کو پچیس برس ہو گئے ہیں۔ ان سالوں کے دوران ای میل روز مرہ زندگی کا لازمی حصہ بن گئی ہے۔ لیکن اس کے باوجود انٹرنیٹ کے حوالے سے صارفین کو ابھی بھی بہت سے چیلنجز کا سامنا ہے۔

دو اگست 1984ء کے دن امریکہ سے جو پہلی ای میل جرمنی پہنچی، اس کا عنوان تھا، سی ایس نیٹ میں خوش آمدید۔ یہ ای میل میسی چیوسیٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی سے بھیجی گئی تھی، جوجرمن وقت کے مطابق صبح 10 بج کر 14 منٹ پر کارلسروہے یونیورسٹی کے شعبہ کمپیوٹر سائنسز میں پہنچی تھی۔ اس کے بعد سے اب تک جرمنی میں انٹرنیٹ کے ذریعےکتنی ای میلز اور دیگر معلومات کا تبادلہ ہو چکا ہے، اس کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔ بہر حال یہ موقع انٹرنیٹ کی بنیاد رکھنے والوں کے لئے کمپیوٹر پر رکھا ایک گل دستہ پیش کرنے کا ہے۔

Symbolfoto email internet

دو اگست 1984ء کے دن جرمنی نے پہلی ای میل وصول کی جو امریکہ سے بھیجی گئی تھی

1984ء میں جرمنی انٹرنیٹ کی سہولت حاصل کرنے والا چوتھا ملک تھا۔ لیکن اس شعبے میں ہونے والی ترقی کو دیکھتے ہوئے یہ کہنا مشکل ہےکہ جرمنی آج بھی چوتھی پوزیشن پر ہی ہے۔

رائے عامہ کا جائزہ لینے والے ادارے اور خاص طور پر کمپیوٹر ٹیکنالوجی کی وفاقی انجمن، جرمنی میں انٹرنیٹ کے استعمال میں اضافے اور اس میدان میں ہونے والی کامیابیوں اورکامرانیوں کا تذکرہ کرتے نہیں تھکتے۔ یہ صورت حال اس وقت دلچسپ ہوجاتی ہے جب جرمنی میں انٹرنیٹ کے ذریعے آنے والی تبدیلیوں کا بین الاقوامی سطح پر دوسرے ملکوں سے موازنہ کیا جاتا ہے۔

ابھی کچھ دن قبل ہی ایک بین الاقوامی تنظیم یونیورسل میک کین نے انٹرنیٹ کے بین الاقوامی رجحانات کے بارے میں اپنی چوتھی رپورٹ شائع کی، جس میں 38 ممالک کے 22 ہزار صارفین سے انٹرنیٹ کے استعمال کے بارے میں پوچھا گیا۔ یونیورسل میک کین کے مطابق ان صارفین کی ایک تہائی تعداد انٹرنیٹ پر سوشل ویب سائٹس پر سرفنگ کرتی ہے، اور جرمنی میں بھی یہی رجحان پایا جا تا ہے۔

اس رپورٹ میں جرمنی کوکاپی کیٹ یا نقل کرنے والا کہا گیا ہے۔ اس کی مثال کچھ یوں دی گئی ہے کہ جرمن، امریکہ کے کامیاب انٹرنیٹ منصوبوں کی نقل کرتے ہیں۔ جیسا کہ جرمنی کی سماجی تعلقات کی ویب سائٹ StudiVz ، فیس بک کی نقل ہے۔ اس حوالے سے سب سے اچھی مثال Alando کی دی جاتی ہے۔ 1999ء میں تین بھائیوں نے eBay کو دیکھتے ہوئے اسی طرز پر Alando کی ویب سائٹ بنائی تھی، اور چھ ماہ بعد اسے 50 ملین ڈالر کے عوض eBay کو ہی فروخت کر دیا تھا۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ جرمنی میں انٹرنیٹ کے حوالے سے ہر طرح کے چیلنجزکا مقابلہ کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔ جرمنی ایک مرتبہ پھر 1984ء کی طرح انٹرنیٹ کے حوالے سے پانچ سرفہرست ملکوں میں شامل ہو سکتا ہے۔ لیکن اس کے لئے جرمنی کو انٹرنیٹ کی دنیا میں ہونے والی تبدیلوں پر اپنے ردعمل کو تیز کرنا ہو گا۔ امید ہے کہ اس کے لئے مزید پچیس سال درکار نہیں ہوں گے۔

رپورٹ: عدنان اسحاق

ادارت: مقبول ملک

DW.COM