جرمنی میں انسدادِ دہشت گردی کی ٹیموں کے چھاپے | مہاجرین کا بحران | DW | 25.10.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

جرمنی میں انسدادِ دہشت گردی کی ٹیموں کے چھاپے

جرمنی میں انسدادِ دہشت گردی کے سلسلے میں پانچ صوبوں میں تیرہ مقامات پر ایک ساتھ چھاپے مارے گئے۔ بتایا گیا ہے کہ پولیس نے درجنوں اپارٹمنٹس اور مہاجرین کے ایک مرکز کی تلاشی لی۔

جرمن ریاست تھیورنگیا کے پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ان چھاپوں میں مشتبہ دہشت گردوں کی مالی اعانت کرنے والوں کو ہدف بنایا گیا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ مسلح پولیس اہلکاروں نے منگل کی صبح ملک بھر میں مختلف مقامات پر چھاپے مارے، جن میں قریب بارہ اپارٹمنٹس اور مہاجرین کے ایک مرکز کی تلاشی لی گئی۔ بتایا گیا ہے کہ یہ چھاپے تھیورنگیا، ہیمبرگ، نارتھ رائن ویسٹ فیلیا، سیکسینی اور باویریا میں مارے گئے۔ حکام کا کہنا ہےکہ یہ چھاپے  28 سالہ چیچنیا سے تعلق رکھنے والے زیرحراست روسی باشندے سے جاری تفتیش کے تناظر میں مارے گئے۔ اسے گزشتہ برس گرفتار کیا گیا تھا۔

حکام کا کہنا ہے کہ ان چھاپوں کی نتیجے میں دس مردوں اور تین خواتین کو حراست میں لیا گیا ہے، جو تمام روسی شہری ہیں اور ان کی عمریں بیس سے تیس برسوں کے درمیان ہیں۔ حکام کے مطابق ان تمام افراد کو شدت پسندوں کی مالی معاونت سے مشتبہ تعلق میں حراست میں لیا گیا۔

جرمنی کے علاقائی نشریاتی ادارے ایم ڈی آر کے مطابق ان افراد میں سے کچھ شدت پسند تنظیم اسلامک اسٹیٹ میں شمولیت کی ‘خواہش مند‘ بھی تھے۔

حکام کا کہنا ہے کہ ان افراد سے عوامی سلامتی کو درپیش خدشات کی نشان دہی نہیں ہوئی ہے۔

تھیورنگیا میں جرائم کے انسداد سے متعلق حکام کا کہنا ہے کہ اب تک کی تفتیش کے مطابق حراست میں لیے گئے افراد اور کسی دہشت گردانہ حملے کی منصوبہ بندی کے درمیان تعلق کے ٹھوس شواہد نہیں ملے ہیں۔

جرمنی میں رواں برس جولائی میں ایک ہی ہفتے میں دہشت گردی کے دو واقعات کے بعد ملک بھر میں حفاظتی انتظامات انتہائی سخت کر دیے گئے ہیں۔ ان دو حملوں کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم اسلامک اسٹیٹ نے قبول کی تھی۔