1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

جرمنی میں انسانی حقوق کی صورت حال

وفاقی جمہوریہ جرمنی قانون کا علمبردار ایک ایسا ملک ہے جہاں حقوق انسانی کا معیار بہت بلند ہے۔

default

جنیوا میں جاری انسانی حقوق کونسل کے اجلاس کے باہر اس کونسل کا پرچم

یہ بات جرمن حکومت کے نمائندے نے کل جنیوا میں اقوام متحدہ کی حقوق انسانی کونسل کے سامنے بتائی جو اس مرتبہ جرمنی میں حقوق انسانی کی صورت حال کا جائزہ لے رہی ہے۔ جرمن حکومت نے بڑے اعتماد کے ساتھ کسی حد تک اس بجا تنقید کا بھی سامنا کیا جس کا تعلق جرمنی میں حقوق انسانی کے ضمن میں ہونے والی بعض کوتائیوں سے تھا۔ متعدد ملکوں کے نمائندوں کی طرف سے کی جانے والی یہ تنقید اصولی اور ہر طرح کی حجت بازی سے پاک تھی۔ اس کا تعلق مذہبی اور نسلی اقلیت کے ساتھ امتیازی سلوک روا رکھنے، نسلی منافرت اوردائیں بازو کی انتہا پسندی پر مبنی پرتشدد واقعات اور عورتوں کے ساتھ مساوی سلوک میں کمی وغیرہ سےتھا۔ مزید برآں یو این او کے اس کنوینشن پر جرمن حکومت کے دستخط نہ کرنے پر بھی تنقید کی گئی، جو ایک جگہ سے دوسری جگہ چل پھر کر کام کرنے والے مزدوروں کے حقوق کی ضمانت دیتا ہے۔

جرمنی میں حقوق انسانی کے موضوع پر عام طور پر اظہار اطمینان کا رجحان پایا جاتا ہے۔ یہ بات جرمن انسٹیٹیوٹ برائے حقوق انسانی کے ڈائیریکٹر ہائینر بیلےفیلڈٹ نے جنیوا میں حکومت برلن پر بجا طور پر تنقید کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ دوسرے ممالک، جنہیں حقوق انسانی کے حوالے سے بہت مشکلات کا سامنا ہے، جرمنی کے مقابلے میں کہیں زیادہ کھل کر تنقیدی باتوں پر توجہ دیتے ہیں۔

سب سے بھیانک حقوق انسانی خلاف ورزی، جس میں جرمنی فعال طریقہ سے حصہ لے رہا ہے، یہ ہے کہ یورپ نوے کے وسط عشرے سے مہاجروں اور سیاسی پناہ گزینوں پر اپنے دروازے بند کرنے کی پالیسیوں پر گامزن ہے جو اقوام متحدہ کے کنوینشن برائے مہاجرین کی سرا سر خلاف ورزی کے مترادف ہے۔

ایک طرف جہاں یورپ کے وسط میں واقع ہونے کی وجہ سےجرمنی کا رخ کرنے والے پناہ گزینوں کی تعداد میں کمی ہو رہی ہے وہاں یورپی یونین کے سرحدی ملکوں اور خاص طور پر بحیرہ روم کے علاقے میں گذشتہ برسوں کے دوران پناہ کی تلاش میں نکلے ہزاروں افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

حقوق انسانی کی اس سنگین خلاف ورزی پر بدقسمتی سے جنیوا میں کسی ملک نے بھی جرمنی پر تنقید نہیں کی، سوائے ایمنسٹی انٹیرنیشنل اور دیگرغیرسرکاری حقوق انسانی تنظیموں کے۔