1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جرمنی میں انتقال اقتدار کے لمحات

وفاقی جمہوریہء جرمنی کے اس بار کے پارلیمانی انتخابات کی فاتح انگیلا میرکل ان تمام جرمن باشندوں کی شکر گزار ہیں جنہوں نے انہیں ایک بار پھر چانسلر بننے کا موقع فراہم کیا ہے۔

default

گزشتہ شب جیسے ہی ابتدائی انتخابی نتائج سامنے آنا شروع ہوئے ویسے ہی میرکل نے اپنے بیان میں کہا: ’’میں ان جرمن باشندوں کی تہہ دل سے شکر گزار ہوں جنہوں نے ووٹ دے کر ہم پر اپنے اعتماد کا ثبوت دیا ہے اورمیں یہ بھی کہنا چاہتی ہوں کہ میں تمام جرمن باشندوں کی چانسلر بننا چاہتی ہوں۔‘‘

اتوار کے پارلیمانی انتخابات کے بعد کرسچن ڈیموکریٹک یونین اور سوشل ڈیموکریٹک پارٹی پر مشتمل وفاقی جمہوریہء جرمنی کی وسیع مخلوط حکومت اب قصہء ماضی بن جائے گی۔

Deutschland Bundestagswahlen 2009 CDU Angela Merkel Feier

27 ستمبر کے پارلیمانی انتخابات میں جرمن عوام کی اکثریت نے کرسچین ڈیموکریٹک یونین کرسچن سوشل یونین اور فری ڈیموکریٹک پارٹی کو ووٹ دے کر آئندہ ان جماعتوں کی مخلوط حکومت کی تشکیل کو یقینی بنا دیا ہے۔ اس حکومتی اتحاد کی راہ ہموار کرنے میں اہم ترین کردار فری ڈیموکریٹک پارٹی کا ہے، جسے اس بار تاریخی کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ 14 فیصد سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے والی ایف ڈی پی کے سربراہ Guido Westerwelle سی ڈی یو کی لیڈر اور موجودہ جرمن چانسلر انگیلا میرکل کے ساتھ مل کر نئی حکومت سازی کی تیاریاں کر رہے ہیں۔

عبوری سرکاری نتائج کے مطابق یونین جماعتوں اور ایف ڈی پی کو پارلیمان میں دو سو نوے 290 سے 323 تین سو تیئیس نشستوں تک کی اکثریت حاصل ہو سکتی ہے۔ مستقبل کی مخلوط حکومت کے لئے حکومت کرنا اس لئے بھی آسان ہوگا کہ اسے صوبوں کے نمائندہ ایوان بالا میں بھی اکثریت حاصل ہوگی۔

دریں اثناء سی ڈی یو کے سیکریٹری جنرل رولانڈ پروفالا نے ایک ٹیلی ویژن انٹرویو میں کہا ہے کہ فری ڈیموکریٹک پارٹی کے ساتھ حکومت سازی کے معاملات کے بارے میں مؤثر مذاکرات شروع ہو گئے ہیں۔ پروفالا کے مطابق یہ بات چیت تقریباً ایک ماہ جاری رہے گی، جس کے بعد ایف ڈی پی کی شرائط پر دو طرفہ اتفاق سے نئی حکومت کی تشکیل کا مرحلہ مکمل ہو جائے گا۔ ادھر برلن میں ایف پی ڈی کی مجلس صدارت کا اجلاس شروع ہو چکا ہے۔

جرمنی کی موجودہ اور آئندہ چانسلر انگیلا میرکل نے عبوری سرکاری نتائج سامنے آنے کے بعد برلن میں کرسچن ڈیمو کریٹک یونین کی مجلس صدارت سے خطاب کیا۔ میرکل نے کہا ہے کہ موجودہ اقتصادی بحران کے پیش نظر وہ اپنی آئندہ پالیسیوں میں عوام کو درپیش مسائل اور ملکی اقتصادی ترقی پر خاص توجہ مرکوز کریں گی۔’’

،: اس بار کے انتخابی نتائج اس بات کا ثبوت ہیں کہ عوام آئندہ حکومت پر مکمل بھروسہ رکھتے ہیں۔ میں سمجھتی ہوں کہ ایک مشکل اقتصادی وقت میں عوام نے ہم پر بھروسہ کرتے ہوئے ہمیں یہ موقع فراہم کیا ہے۔ ہم عوام کے توقعات پر پورا اترنے کی تمام تر کوششیں کریں گے اور اس سنہری موقع کو بروئے کار لائیں گے۔ خاص طور سے روزگار کی نئی آسامیاں پیدا کرنے، روزگار کو تحفظ فراہم کرنے اور اقتصادی پیداوار میں اضافہ کرنے کا جو وعدہ ہم نے انتخابی مہم کے دوران کیا تھا، اسے ہم پورا کرنے کی ہر ممکن کوشش کریں گے۔‘‘

ان وعدوں کے ساتھ انگیلا میرکل اپنے رفقاء اور آئندہ حکومت کی اتحادی جماعت ایف ڈی پی کے لیڈروں کے ساتھ مذاکرات کر رہی ہیں۔

رپورٹ: کشور مصطفٰی

ادارت: امجد علی