1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

جرمنی میں اقوام متحدہ کی تحفظ ماحول کانفرنس

اقوام متحدہ کے ماحول سے متعلق مذاکرات پر ابتدائی بات چیت کا عمل بون میں مکمل ہو گیا ہے۔ کوپن ہیگن کے لئے محتاط خوش امیدی کے سفر میں ابھی بہت سی رکاوٹیں حائل ہیں اور آٹھ مہینے کا وقت باقی ہیں۔

default

اقوام متحدہ کے ادارے یونائیٹڈ نیشنز فریم ورک کنونشن آن کلائمیٹ چینج کے ایکزیکٹو سیکریٹری Yvo de Boer کے خیال میں: اوٹون : اگر اِس طریقہ کار کو طویل فاصلے کی دوڑ قرار دیا جائے تو یہ سمجھ لیجیئے کہ سب شرکاء آخری لمحوں میں برق رفتاری سے فاصلہ طے کرنے کے لئے اپنی قوت اور سٹیمنا سنبھالے ہوئے ہیں۔ فریقین ایک دوسرے کے قریب ہوتے ہوئے واضح انداز میں چار معاملات میں اپنا مؤقف پیش کر رہے ہیں، اِس میٹنگ کے دوران عملی معاملات پر فاصلوں میں کمی واقع ہوئی ہے۔

بون شہر میں گیارہ روز تک جاری رہنے والی کانفرنس کے اختتام پر اقوام متحدہ کے ادارے کے ایکزیکٹو سیکریٹری جنرل Yvo de Boer نتائج کی تفصیلات بیان کر رہے تھے۔ کانفرنس کے دوران کے ماحول مثبت رہا اور مقصد کے حصول کی جانب شرکاء ایک قدم بڑھے ہیں۔ اِس حوالے سے امریکی سفیر برائے ماحولیات ٹوڈ سٹرن کا انداز بھی خاصا مثبت تھا۔ اِس تناظر میں ایک ماحولیاتی ادارے کے ڈائریکٹر ڈنکن مارش کا کہنا ہے : اوٹون: اُنہوں نے ابتدائی جملوں میں کہا کہ وہ واپس آ گئے ہیں اور ضائع شدہ وقت کا ازالہ کریں گے، ٹاسک تک پہنچنے کی جلد کوشش کی جائے گی۔ اس پر اُن کو شرکا کی جانب سے زبردست پذیرائی حاصل ہوئی تھی۔

ہر ایک جانتا ہے کہ ماحولیات تبدیلی کی مناسبت سے امریکہ کے بغیر کچھ بھی ہونے والا نہیں۔ یہ دوسری بات ہے کہ امریکہ اب بھی سبز مکانی گیسوں کے اخراج کا چیمپئن ہے۔ ٹاپ پوزیشن کے حوالے سے چین اور امریکہ کے درمیان کشمکش موجود ہے۔ دونوں ملک مل کر اکتیالیس فی صد عالمی سطح پر سبز مکانی گیسوں کا مؤجب بن رہے ہیں۔

بھارت اور برازیل بھی تیزی سے اقتصادی ترقی کی طرف گامزن ہیں اور اِس وجہ سے ماحول کو آلودہ کرنے والی گیس کے اخراج کے اضافے کا باعث بن رہے ہیں۔ اِس لئے اِن مذاکرات کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ ترقی کی طرف بڑھنے والے یہ ممالک گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی سے متعلق کیا فیصلے کرتے ہیں۔ بظاہر یہ دونوں ملک اپنی صنعتی پیداوار اور معیشی بالیدگی کو آگے سے آگے بڑھاتے رہیں گے۔ اقوام متحدہ کے ماحولیاتی ادارے کے ایکزیکٹو جنرل Yvo de Boer کا کہنا ہے: اوٹون: اگر ترقی پذیر ملکوں کو بھی اِس صف میں لانا ہے تو ترقی یافتہ ملکوں کی طرح اُن کو بھی مضر دھوئیں کے اخراج کو محدود کرنا ہو گا۔ چین، برازیل، بھارت، میکسیکو، جنوبی افریقہ اور بہت سے دوسری اقوام ماحولیاتی تبدیلیوں کی مناسبت سے حکمت عملی بنائے ہوئے ہیں۔ جو اِس بات کا عندیہ دیتا ہے کہ ترقی پذیر ممالک صنعتی ملکوں پر سبقت لینے کے منتظر نہیں ہیں۔ اہم ترین مسئلہ یہ ہے کہ اُن کے عملی اقدامات کو برقت سمجھتے ہوئے تسلیم کیا جائے۔

کہا یہ جا رہا ہے کہ ماحولیاتی تبدیلی کا باعث امیر ملکوں کی جانب سے مضر دھوئیں کے اخراج میں کمی سے ممکن ہے۔ یورپی یونین اپنے نکتہٴ نظر کی وضاحت کر چکی ہے۔ اُنیس سو نوے کے مقابلے میں سن دو ہزار بیس تک تیس فی صد کمی کا ارادہ ظاہر کیا جا چکا ہے۔ انٹر نیشنل گرین پیس آرگنائزیشن کے وفد کے سربراہ مارٹن کائزر کا کہنا ہے : اوٹون: امریکہ، جرمنی اور یورپ بغیر تیاری کی آئے تھے اور وہ ترقی پذیر ملکوں کو کچھ بھی پیش کرنے کی پوزیشن میں نہیں تھے۔ خاص طور سے کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج کے حوالے سے اور مالیاتی امداد کے تناظر میں بھی کچھ سامنے نہیں آیا۔ بہت معمولی پیش رفت ہوئی ہے۔

بون میں ہونے والی ابتدائی بات چیت کوپن ہیگن کانفرنس کا تیاریوں کا حصہ ہے۔ چار اہم معاملات ، کیوٹو پروٹوکول کی مناسبت سے ہیں کہ صنعتی ملکوں کو مضر دھوئیں کے اخراج کے لئے پابند کرنے کا ہدف دینا، چین، بھارت ، برازیل سمیت ابھرتی اقتصادی ملکوں کے لئے واضح ذمہ داریوں کا احاطہ، ترقی پذیر ملکوں کو پابند کرنے کے لئے مالیاتی امداد اورغریب ملکوں کی امداد کے لئے مالیاتی ادارے کے ڈھانچے کا قیام۔

ماحولیاتی ادارے گرین پیس کی جانب سے شرکاء سے اپیل کرتے ہوئے مارٹن کائزر کا کہنا ہے : اوٹون: امریکی صدر باراک اوباما اور جرمن چانسلر انگیلا میرکل اس راستے کو ہموار کرنے کی کوشش کریں جس سےاقوام متحدہ کی نگرانی میں کوپن ہیگن کانفرنس کے لئے مذاکراتی عمل کامیاب ہو سکے۔ بون شہر میں ایک بار پھر اقوام سے شرکاء جون میں جمع ہوں گے۔ تب امکاناً کوپن ہیگن کانفرنس میں عالمی معاہدے کے لئے پہلے مسودے کی تکمیل کی جائے گی۔ اُس وقت تک تمام مندوبین اپنے اپنے ملکوں میں اِس پر کام کریں گے تا کہ آخری لمحات میں بس کومے اور اختتامی نکتے لگائے جاسکیں۔

DW.COM