1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

جرمنی میں افغان مہاجرین کے لیے پناہ کے امکانات کم ترین

ایک جرمن روزنامے کے مطابق جرمنی میں افغان تارکین وطن کی درخواستوں کی منظوری کی شرح میں مسلسل کمی واقع ہوئی ہے۔ رواں برس کے پہلے دو ماہ میں پناہ دینے کی شرح پچاس فیصد سے بھی کم  فیصد رہی۔

[No title] (Ehsan Hadid)

میرکل حکومت نے افغان مہاجرین کی ملک بدری کا سلسلہ بھی تیز کر رکھا ہے

جرمن اخبار  ’پاساؤر نوئے پریسے‘ نے پیر چوبیس اپریل کو اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ جہاں سن 2015 میں جنگ زدہ ملک افغانستان سے جرمنی آنے والے 77.6 فیصد افغان پناہ گزینوں کو جرمنی میں تحفظ دیا گیا تھا، وہاں صرف ایک سال بعد یعنی سن 2016 میں یہ شرح کم ہو کر 60.5 فیصد رہ گئی۔

افغان شہریوں کو جرمنی میں پناہ دینے کے رجحان میں کمی کا یہ سلسلہ یوں جاری ہے کہ رواں برس کے پہلے دو ماہ میں افغانوں کو پناہ دینے کی شرح 47.9 فیصد رہی۔ اخبار ’پاساؤر نوئے پریسے‘ نے جرمن پارلیمان کی بائیں بازو کی جماعت ’دی لنکے‘ کے ایک استفسار  پر  ملکی وفاقی وزارتِ داخلہ کے جواب کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ امسال جنوری اور فروری کے مہینوں میں حکومت نے افغان تارکین وطن کی جانب سے دائر کردہ پناہ کی ستائیس ہزار چھ سو اُنتالیس درخواستوں میں سے چَودہ ہزار چار سو تین درخواستوں کو مسترد کر دیا۔

اخبار کی رپورٹ کے مطابق افغان مہاجرین کی پناہ کی درخواستوں کی منظوری کی شرح میں سن دو ہزار سولہ میں 60 فیصد گراوٹ آئی تھی جبکہ رواں برس مزید کمی واقع ہوئی ہے۔

اِن درخواستوں کی قبولیت میں کمی  اس رپورٹ کے بعد ہوئی، جس میں یہ خدشہ ظاہر کیا گیا تھا کہ گزشتہ دو برسوں میں جرمنی آنے والے ایک لاکھ سے زائد افغان مہاجرین کے درمیان سابق طالبان جنگجو بھی شامل ہو سکتے ہیں۔

اس رپورٹ کے سامنے آتے ہی جرمن وفاقی پراسکیوٹرز نے فوری تحقیقات کا آغاز کر دیا تھا۔ بائیں بازو کی جماعت ’دی لنکے‘ سے تعلق رکھنے والی قانون ساز اُولا یلپکے نے جرمن اخبار سے گفتگو میں افغان مہاجرین کے لیے سخت حکومتی موقف پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایسے وقت میں کیا جا رہا ہے جب افغانستان میں سلامتی کی صورتِ حال مسلسل خراب ہو رہی ہے۔

جرمن چانسلر انگیلا میرکل کی حکومت پہلے ہی جرمنی میں تارکینِ وطن کے آزادانہ داخلے کی پالیسی کے حوالے سے تنقید کی زد میں رہی ہے۔ گزشتہ سال جرمنی میں ہوئے چند دہشت گردانہ حملوں کے بعد، جن کے تانے بانے مہاجرین سے ملتے تھے، یہ تنقید زور پکڑ گئی تھی۔ اسی تناظر میں میرکل حکومت نے افغان مہاجرین کی ملک بدری کا سلسلہ بھی تیز کر رکھا ہے۔

 افغانستان میں مہاجرین کے اُمور کی نگران وزارت نے پیر چوبیس اپریل کو ایک بیان میں کہا ہے کہ منگل سے جرمنی سے مزید پچاس افغان پناہ گزین جرمنی سے ایک خصوصی پرواز کے ذریعے افغان دارالحکومت کابل پہنچیں گے۔

گزشتہ ماہ کے آخر میں افغان مہاجرین کے چوتھے گروپ کو جرمنی بدر کیا گیا تھا۔  میرکل  نے اِن ملک بدریوں میں اضافے  کے دفاع میں یہ جواز پیش کیا تھا کہ یورپی یونین کے باقی ممالک بھی ایسا ہی کر رہے ہیں۔

DW.COM

Audios and videos on the topic