1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

’جرمنی میں اسلام سے خوف بڑھتا ہوا‘ نیا سروے

جرمنی میں ’اسلامو فوبیا‘ یعنی مذہب اسلام سے خوف میں واضح اضافہ ہوا ہے۔ ایک تازہ مطالعاتی جائزے کے مطابق اس مخصوص حوالے سے جرمن معاشرے میں تناؤ کی کیفیت دیکھی جا رہی ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز نے ایک تازہ مطالعاتی جائزے کے نتائج کے حوالے سے بتایا ہے کہ ایک بڑی تعداد میں مہاجرین کے جرمنی پہنچنے کی وجہ سے مقامی لوگوں میں ’اسلامو فوبیا‘ بڑھتا دکھائی دے رہا ہے۔

DW.COM

مہاجرت کے بحران کے نتیجے میں دس لاکھ سے زائد مہاجرین اور تارکین وطن جرمنی پہنچ چکے ہیں، جن میں زیادہ تر تعداد مسلمانوں کی ہے۔

مہاجرت کے بحران کے نتیجے میں دس لاکھ سے زائد مہاجرین اور تارکین وطن جرمنی پہنچ چکے ہیں، جن میں زیادہ تر تعداد مسلمانوں کی ہے۔

اس مطالعاتی جائزے میں مجموعی طور پر دو ہزار چار سو بیس افراد سے رائے لی گئی، جن میں سے ہر دوسرے فرد نے محسوس کیا کہ جرمنی میں غیر ملکیوں کی تعداد میں بہت زیادہ اضافہ ہو گیا ہے۔

سن دو ہزار نو میں کرائے گئے ایسے ہی جائزے کے مقابلے میں اس تازہ جائزے میں اسلامو فوبیا کے شکار افراد کی تعداد میں 30.2 فیصد اضافہ ہوا ہے جبکہ سن 2014 کے ایسے ہی ایک سروے کے مقابلے میں اس تعداد میں 43 فیصد کا اضافہ نوٹ کیا گیا ہے۔

ایسے افراد کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا ہے، جن کا کہنا ہے کہ مسلمانوں کا جرمنی میں داخلہ ہی بند کر دینا چاہیے۔ اس مطالعاتی جائزے کو لائپزگ یونیورسٹی نے دیگر متعدد اداروں کے ساتھ مل کر کروایا ہے۔

مسلمان مہاجرین کی بڑی تعداد کے جرمنی آنے کے باعث مہاجرت مخالف سیاسی پارٹی AfD کی عوامی حمایت میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

اسلام مخالف یہ پارٹی جرمنی میں میناروں والی مساجد کی تعمیرکے خلاف ہے جبکہ اس کا یہ بھی کہنا ہے کہ برقع پر پابندی عائد کر دینا چاہیے۔ اس پارٹی کا کہنا ہے کہ مذہب اسلام جرمن آئین سے مطابقت نہیں رکھتا ہے۔

اسی تناظر میں جرمنی میں نہ صرف اجانب دشمنی بلکہ مہاجرین کے شیلٹر ہاؤسز پر حملوں میں بھی اضافہ ںوٹ کیا جا رہا ہے۔

اس سروے کے مطابق جہاں اے ایف ڈی کے حامی مہاجرین سے خوفزدہ ہیں، وہیں ایک اور جرمن پارٹی ’گرین‘ کے حمایتی ووٹرز کا کہنا ہے کہ انہیں مسلمانوں سے کوئی خوف نہیں ہے۔

Bautzen Brandanschlag auf geplantes Flüchtlingsheim

جرمنی میں نہ صرف اجانب دشمنی بلکہ مہاجرین کے شیلٹر ہاؤسز پر حملوں میں بھی اضافہ ںوٹ کیا جا رہا ہے

اس تازہ مطالعاتی سروے میں جرمنی میں انتہائی دائیں بازو کے انتہا پسند گروہوں کا تجزیہ کرنے کی بھی کوشش کی گئی ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ ایسے گروہوں کے مسلمانوں کے علاوہ دیگر نسلی گروہوں کے خلاف جذبات میں بھی شدت پیدا ہوئی ہے۔

اس سروے میں حصہ لینے والے مشرقی جرمنی کے چالیس فیصد رائے دہنگان نے اس مفروضے کو درست قرار دیا کہ غیر ملکی جرمنی صرف سماجی بہبود کی مراعات حاصل کرنے کی غرض سے آتے ہیں۔ مغربی جرمنی میں تیس فیصد رائے دہنگان نے اس مفروضے کو درست قرار دیا۔