1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

جرمنی میں اب کن مہاجرین کو پناہ دی جائے گی؟

جرمن میڈیا پر سامنے آنے والی رپورٹوں کے مطابق حکام جرمنی میں داخل ہونے والے نئے مہاجرین کی جانچ پڑتال کے عمل میں ماضی کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ سختی لے آئے ہیں۔

میڈیا رپورٹوں میں کہا جا رہا ہے کہ داخلی سلامتی کے محکمے کے کئی اہلکار مہاجرین اور پناہ گزینوں کے وفاقی دفتر کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں اور سیاسی پناہ کے نئے درخواست گزاروں کی سخت جانچ پڑتال کی جا رہی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ اب سیاسی پناہ کے درخواست گزاروں کی درخواستیں منظور کرنے سے قبل انہیں کئی بار انٹرویوز کے لیے طلب کیا جاتا ہے اور ایسے تارکین وطن جو شدت پسند تنظیم ’اسلامک اسٹیٹ‘ کے مضبوط گڑھ سمجھے جانے والے علاقوں سے ہجرت کر کے جرمنی پہنچنے ہوں، ان کی جانچ پڑتال کا عمل اور بھی زیادہ سخت ہوتا ہے۔

جرمن جریدے ڈیئر اشپیگل کے مطابق موصل اور رقہ کے علاقوں سے آنے والے مہاجرین کی جانچ پڑتال دیگر تارکینِ وطن کے مقابلے میں کئی گنا سخت ہے۔

اشپیگل کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جرمن دفتر برائے تحفظ آئین نے تارکین وطن کی ’تعلیم و تربیت‘ کے لیے سن 2019ء تک مزید ڈھائی سو افراد کو بھرتی کرنے کا اعلان کیا ہے، جب کہ یہ افراد بھی جرمن دفتر برائے مہاجرین کے ساتھ مل کر کام کریں گے۔ جرمن دفتر برائے تحفظ آئین نے تصدیق کی ہے کہ وہ مستقبل قریب میں مزید افراد بھرتی کرے گا، تاہم اس حوالے سے ان کی حتمی تعداد نہیں بتائی گئی۔

Afghanistan Ankunft aus Deutschland abgeschobene Asylbewerber (picture-alliance/dpa/C. Röhrs)

ماضی کے مقابلے میں سیاسی پناہ کے درخواست گزاروں کی جانچ پڑتال کا عمل سخت کر دیا گیا ہے

میڈیا رپورٹوں کے مطابق اس وقت تک رائج ضوابط کے مطابق جب تک دفتر برائے مہاجرین کے اہلکار سیاسی پناہ کے کسی درخواست گزار پر شک کا اظہار نہیں کرتے تھے، جرمنی کی داخلی سکیورٹی سے متعلق افراد ایسے کسی تارک وطن کی جانچ پڑتال شروع نہیں کرتے تھے، تاہم اب ان دونوں اداروں کے درمیان تعلق اور معاونت کو مزید وسعت دی گئی ہے۔

جرمن میڈیا کے مطابق ملکی حکومت اب ایک طرح سے یہ تسلیم کرتی جا رہی ہے کہ شدت پسند تنظیم ’اسلامک اسٹیٹ‘ جہادیوں کو مہاجرین کے روپ میں یورپ بھیج رہی ہے۔ گزشتہ برس جرمن شہروں وُرسبرگ، انس باخ اور برلن میں ہونے والے دہشت گردانہ حملوں میں مشتبہ شدت پسندوں کو ہدایات براہ راست ’اسلامک اسٹیٹ‘ سے وابستہ افراد سے حاصل ہوئی تھیں۔

اسی تناظر میں بعض جرمن سیاست دانوں نے مہاجرین پر ’عمومی شبے‘ کو خطرناک عمل قرار دیا ہے تاہم بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ جرمن خفیہ سروسز کے اہلکاروں کو سیاسی پناہ کی درخواستوں سے متعلق پورے عمل میں شامل رہنا چاہیے۔