1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

جرمنی میں اب تک کتنے پاکستانیوں کو پناہ ملی؟

2015ء کے دوران ساڑھے آٹھ ہزار پاکستانی شہریوں نے جرمنی میں سیاسی پناہ کی درخواستیں دیں۔ جرمن حکام کی جانب سے جن درخواستوں پر فیصلے کیے گئے، ان میں سے صرف 9.8 فیصد پاکستانی تارکین وطن کو جرمنی میں پناہ مل سکی۔

جرمنی کے وفاقی ادارہ برائے تارکین وطن و مہاجرین (بی اے ایم ایف) کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ برس کے دوران پاکستانی تارکین وطن کو جرمنی میں سیاسی پناہ دیے جانے کا تناسب صرف نو اشاریہ آٹھ فیصد رہا جب کہ جنوری 2016ء میں یہ تناسب مزید کم ہو کر محض 4.5 فیصد رہ گیا۔

بی اے ایم ایف کے اعداد و شمار کے مطابق یورپ میں جاری پناہ گزینوں کے موجودہ بحران کے دوران گزشتہ برس ساڑھے آٹھ ہزار کے قریب پاکستانی شہریوں نے بھی جرمنی میں سیاسی پناہ حاصل کرنے کے لیے درخواستیں جمع کرائی تھیں۔

DW.COM

پچھلے سال ان میں سے دو ہزار سے زائد درخواستوں پر ابتدائی فیصلے سامنے آئے اور صرف 197 پاکستانی مہاجرین کی درخواستوں پر مثبت فیصلہ سنایا گیا۔ اس کے برعکس اٹھارہ سو سے زائد پاکستانیوں کی درخواستیں مسترد کر دی گئیں۔ یوں نوّے فیصد سے زائد پاکستانیوں کو جرمنی میں پناہ کا حق دار نہیں سمجھا گیا۔

2016ء کا آغاز بھی پاکستانی مہاجرین کے لیے کچھ زیادہ امید افزا نہیں ہے۔ جنوری کے مہینے میں مزید 757 پاکستانیوں نے سیاسی پناہ حاصل کرنے کے لیے جرمن حکام کو درخواستیں دیں۔

جنوری میں 334 درخواستوں کو نمٹایا گیا جن میں سے صرف پندرہ پاکستانی پناہ گزینوں کے حق میں فیصلہ کیا گیا جب کہ باقی تمام کی تمام درخواستیں مسترد کر دی گئیں۔ یوں پاکستانی شہریوں کی سیاسی پناہ کی درخواستوں کی کامیابی کا تناسب پچھلے سال کے مقابلے میں نصف رہ گیا۔

یورپی یونین کے دفتر شماریات یوروسٹیٹ کے مطابق گزشتہ برس جرمنی آنے والے پاکستانی تارکین وطن کی اکثریت مردوں کی تھی۔ تاہم اس دوران چھ سو پچیس پاکستانی خواتین بھی پناہ کی تلاش میں جرمنی پہنچی تھیں۔ پاکستان سے تعلق رکھنے والے 790 درخواست گزار ایسے بھی ہیں جن کی عمریں سترہ برس سے کم ہیں۔

2010ء اور 2014ء کے درمیانی عرصے میں جرمنی میں قریب اڑتیس سو پاکستانی درخواست دہندگان میں سے بارہ سو کو پناہ کا مستحق تسلیم کیا گیا تھا۔ ان پانچ برسوں میں پاکستانیوں کی پناہ کی درخواستوں کی کامیابی کی شرح ایک تہائی رہی تھی۔

پچھلے سال افغانستان سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کو جرمنی میں پناہ دیے جانے کا تناسب پاکستانیوں کی نسبت پانچ گنا زیادہ یعنی قریب اڑتالیس فیصد رہا۔ اس کے مقابلے میں شام، عراق اور اریٹیریا کے شہریوں کو ترجیحی بنیادوں پر جرمنی میں پناہ دی گئی۔

یورپ میں جاری مہاجرین کے موجودہ بحران کے دوران یورپ آنے والے زیادہ تر مہاجرین کا تعلق خانہ جنگی کے شکار ملک شام سے ہے۔جرمنی میں اب تک ایک لاکھ نوّے ہزار شامی باشندوں کی سیاسی پناہ کی درخواستوں پر فیصلے کیے جا چکے ہیں۔ شامی پناہ گزینوں کی درخواستیں مسترد کیے جانے کا تناسب نہایت کم ہے۔

یورپ پہنچے والے لاکھوں مہاجرین میں پاکستانی کتنے؟

پانچ برسوں میں کتنے پاکستانیوں کو یورپ میں پناہ ملی؟

DW.COM