1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

جرمنی: مہاجر کیمپ آدھے خالی، مگر خرچہ پورا

جرمنی ميں بہت بڑی تعداد ميں مہاجرين کی آمد کے سبب کئی صوبوں اور بلديات نے کرائے پر جگہیں حاصل کر کے ان کے لیے رہائش گاہوں کے بندوبست کیا تھا لیکن ایسے کئی کیمپ خالی پڑے ہيں جب کہ ان کے اخراجات آسمان کو چھو رہے ہيں۔

جرمن صوبے نارتھ رائن ويسٹ فيليا ميں کرائے گئے ايک تازہ سروے کے نتائج ميں يہ بات سامنے آئی ہے کہ وہاں موجود دو تہائی مہاجر کيمپ تقريباً خالی ہيں۔ يہ امر بھی اہم ہے کہ شہری حکومتوں کو مہاجرين کے لیے سہوليات کی فراہمی کی مد میں وفاقی جرمن حکومت سے مالی مدد صرف ان مہاجرين کے ليے ملتی ہے، جو مراکز ميں رہائش پذير ہوں۔ اسی سبب جرمنی میں صوبائی اور مقامی حکومتوں کا اب مطالبہ ہے کہ وفاقی حکومت انہیں رہائش گاہوں پر اٹھنے والے اخراجات کے لیے الگ سے مالی امداد فراہم کرے۔

مثال کے طور پر اگر این آر ڈبلیو صوبے کے ايک شہر میونشن گلاڈباخ پر نظر ڈالی جائے، جہاں مقابلتاً کم تارکين وطن جاتے ہيں، تو وہاں 2300 افراد کی رہائش کا بندوبست کیا گیا تھا جب کہ اس کیمپ میں رہائش پذير مہاجرين کی حقيقی تعداد ساڑھے سات سو ہے۔ اس حساب سے میونشن گلاڈباخ میں قائم مہاجر کيمپ صرف بتيس فيصد بھرے ہوئے ہيں اور حکومت فی مہاجر طے شدہ امداد فراہم کر رہی ہے ليکن کیمپ پر اٹھنے والے کے اخراجات فراہم کردہ رقم سے کہیں زیادہ ہيں۔ میونشن گلاڈ باخ کے حکام کے مطابق مہاجر کیمپوں پر اٹھنے والے سالانہ اخراجات تقريباً دس ملين يورو کے لگ بھگ ہے۔

یہاں یہ امر بھی اہم ہے کہ مہاجر کيمپوں ميں گنجائش سے کہيں کم پناہ گزينوں کی موجودگی کی وجہ سے اخراجات ميں کوئی کمی واقع نہيں ہوتی کيونکہ کرائے، سکيورٹی سروسز، بجلی، ہيٹنگ کے نظام وغيرہ جیسی سہولیات پر ایک خاص اور مستقل خرچہ ہوتا ہے۔

علاوہ ازیں جرمن حکام مہاجر کیمپوں کی تعداد میں کمی کا خطرہ بھی نہیں مول لے رہے کیوں کہ یہ بات بھی واضح نہیں ہے کہ مستقبل قریب میں مزید کتنے انسان پناہ کی تلاش میں جرمنی کا رخ کریں گے۔

میونشن گلاڈباخ کے محکمہ برائے سماجی امور سے وابستہ ایک آفيسر ڈورٹے شال بتاتی ہيں کہ سن 2015 میں مہاجرین کی بڑی تعداد میں آمد کے پیش نظر اس شہر ميں مہاجرين کو بسانے کے ليے اسکول يا ورزش کے سينٹر وغيرہ خالی نہيں کرائے گئے۔ انتظامیہ کو مجبوراﹰ اس مقصد کے ليے کافی خستہ حال عمارتوں کو کرائے پر لینا پڑا جنہیں مرمت کر کے رہائش کے قابل بنایا گیا۔

وفاقی جرمن حکومت اس وقت مختلف بلديات کو فی مہاجر تقريباً ساڑھے دس ہزار يورو سالانہ فراہم کرتی ہے۔ کیمپوں میں مہاجرین کی تعداد کم ہونے کا ایک براہ راست مطلب یہ ہے کہ وفاقی حکومت سے رقم بھی کم ملے گی۔

اس صورت حال کے پیش نظر نارتھ رائن ويسٹ فيليا کی سٹی اينڈ ميونسپل ايسوسی ايشن سے وابستہ آندريس وولانڈ کہتے ہيں کہ ان نظام کا از سر نو جائزہ ليے جانے کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ فی مہاجر ملنے والی رقم کو رہائش گاہوں پر بحیثیت مجموعی اخراجات کے مطابق بنایا جانا چاہیے۔

DW.COM

ملتے جلتے مندرجات