جرمنی: مہاجر کيمپ ميں جھگڑے کے سبب پانچ افراد شديد زخمی | مہاجرین کا بحران | DW | 22.05.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

جرمنی: مہاجر کيمپ ميں جھگڑے کے سبب پانچ افراد شديد زخمی

وسطی جرمنی کے شہر بيلے فيلڈ کے ايک مہاجر کيمپ کے قريب عراق کی يزيدی برادری سے تعلق رکھنے والے اور چيچنيا کے پناہ گزينوں کے درميان ہونے والے جھگڑے ميں پانچ مہاجرين شديد زخمی ہو گئے ہيں۔

خبر رساں ادارے ايسوسی ايٹڈ پريس کی جرمن دارالحکومت برلن سے موصولہ رپورٹوں ميں مقامی پوليس کے حوالے سے بتايا گيا ہے کہ يزيدی اور چيچن پناہ گزينوں کے درميان يہ تصادم ہفتے اور اتوار کی درميانی شب ہوا۔ مقامی پوليس کے مطابق عراق کی يزيدی مذہبی اقليت سے تعلق رکھنے والے اور چيچن شہريوں نے لاٹھيوں اور چاقوؤں سے ايک دوسرے پر وار کيے۔ تصادم کے نتيجے ميں پانچ تارکين وطن شديد زخمی ہوئے جنہيں بعد ازاں قريبی ہسپتال پہنچا ديا گيا اور اس وقت وہ زير علاج ہيں۔ ہسپتال ذرائع کے مطابق زخميوں ميں کسی کے سر پر چوٹ آئی ہے تو کسی کے ہاتھ کی ہڈی ٹوٹ گئی۔ چند متاثرين کے چہرے کی ہڈياں ٹوٹيں اور ديگر کو چاقوؤں کے زخم آئے۔

ايک اور نيوز ايجنسی اے ايف پی نے اپنی رپورٹوں ميں لکھا ہے کہ اس واقعے ميں دونوں گروپوں کے پندرہ پندرہ افراد ملوث تھے۔ تصادم کا يہ واقعہ اس مہاجر کيمپ سے تقريباً پانچ سو ميٹر دور پيش آيا جہاں يزيدی اور چچين تارکين وطن پناہ ليے ہوئے تھے۔ اے ايف پی کے مطابق جگھڑے کے بعد قريب ايک سو مشتعل يزيدوں نے مہاجر کيمپ کے سامنے احتجاج کيا اور کيمپ ميں داخل ہونے کی کوشش کی تاہم قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بروقت کارروائی کے سبب معاملہ ٹل گيا۔

بعد ازاں علاقائی حکومت کے احکامات پر متعلقہ مہاجر کيمپ سے دونوں متحارب گروپوں کو مختلف شہروں ميں اور مختلف مہاجر کيمپوں ميں منتقل کر ديا گيا ہے۔ مہاجرين کی منتقلی کا يہ عمل اتوار کی صبح مکمل کر ليا گيا ہے۔

پوليس نے چيچنيا سے تعلق رکھنے والے ايک چوبيس سالہ اور ايک بياليس سالہ مہاجر کو حراست ميں لے ليا ہے۔ واقعے کی تحقيقات جاری ہيں تاہم تاحال اس بارے ميں کوئی شواہد سامنے نہيں آئے ہيں کہ پر تشدد جھگڑے کا يہ واقعہ کيسے اور کيوں شروع ہوا۔