1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

جرمنی: مہاجرین کے لیے مشکل وقت

جرمن حکومت ایسے مہاجرین کو رعایت دینے کے لیے تیار نہیں جن کے کاغذات نامکمل ہیں۔ اسی طرح اُن مہاجرین کے خلاف بھی سخت اقدامات کیے جائیں گے جو سلامتی کے لیے خطرہ ثابت ہو سکتے ہیں۔

جرمن چانسلر انگیلا میرکل کی کابینہ کے دو دھڑے اِس پر متفق ہو گئے ہیں کہ نامکمل دستاویزات اور ریکارڈ کے ساتھ سیاسی پناہ کی درخواستیں دینے والوں کو کسی طرح کی بھی رعایت نہ دی جائے اور اسی طرح  ان مہاجرین  کی درخواستیں بھی فوری طور پر  رد کر دینی چاہییں، جو سکیورٹی کے لیے کسی بھی قسم کا خطرہ بن سکتے ہیں۔

وفاقی جرمن کابینہ کے ایک دھڑے کی قیادت وزیر داخلہ تھوماس ڈے میزیئر کر رہے ہیں جب کہ دوسرے بلاک کے لیڈر وزیر انصاف ہائیکو ماس ہیں۔ دونوں وزراء سکیورٹی ضوابط پر اپنے اپنے موقف میں نرمی پیدا کرتے ہوئے ضوابط کی نئی دستاویز پر متفق ہو گئے ہیں۔ دونوں وزراء دارالحکومت برلن کی کرسمس مارکیٹ پر ٹرک حملے کے تناظر میں مہاجرین کی جمع کردہ درخواستوں پر سخت اقدامات متعارف کرانے کو وقت کی ضرورت قرار دیتے ہیں۔

Deutschland Thomas de Maiziere und Heiko Maas (picture alliance/dpa/W. Kumm)

جرمن وزیر داخلہ تھوماس ڈے میزیئر اور وزیر انصاف ہائٍکو ماس

وزیر داخلہ تھوماس ڈے میزیئر نے رپورٹرز کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی پناہ حاصل کرنے والے ایسے مہاجرین کے لیے کسی بھی ایک مقام یا علاقے میں رہائش کی پابندی کو انتہائی سخت کر دیا جائے گا، جن کی شناخت کے بارے میں شکوک و شبہات پائے جاتے ہوں گے۔ ڈے میزیئر کے مطابق نئے قواعد کی روشنی میں ملک بدر کرنے والے مہاجرین کو سکیورٹی تحویل میں لینے کا عمل آسان ہو گا۔

طے پائے گئے نئے ضابطوں کے تحت سیاسی پناہ کے ایسے متلاشیوں کو الیکٹرانک انداز  میں کنٹرول کیا جائے گا جو سکیورٹی رسک ہوں گے۔ اُن کے ٹخنوں پر ایک خاص چِپ باندھنے کی منظوری دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ عام لوگوں کے لیے خطرے کا سبب بننے والے مہاجرین کو ملک بدری سے قبل جیلوں میں بھی منتقل کیا جا سکے گا۔

جرمن وزیر داخلہ کے مطابق سارے ملک کی سکیورٹی کو برلن سے کنٹرول کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ ریاستی اور مرکز کی سکیورٹی ایجنسیوں میں مکمل تعاون، معلومات کا تبادلہ اور رابطے رکھے جائیں گے۔ مہاجرین کی واپسی کے لیے جرمن حکومت نے کئی ملکوں کے ساتھ معاہدے بھی کر لیے ہیں۔