1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

’جرمنی مہاجرین کے لیے محفوظ مقام‘

اس سال جرمنی میں آنے والےتارکین وطن کی تعداد ساڑھے چار لاکھ سے تجاوزکر چکی ہے اور اس وجہ سے حکومتی اورعوامی سطح پہ کافی تشویش پائی جا رہی ہے۔

حکومتی اورعوامی سطح پہ تشویش کے باوجود ایک اور کہانی ایسی ہے، جو اس خبر سے بھی زیادہ مقبولیت حاصل کر رہی ہے۔ وہ یہ ہے کہ جرمنی کے لاکھوں لوگوں نے ایسے تارکین وطن کی مدد کرنے کے لیے اپنے دل اور گھر کے دروازے کھول دیے ہیں مثلاً جرمنی کے ایک شہر کیرپن منہائم میں 80 تارکین وطن کو عارضی رہائش فراہم کی گئی ہے۔

ان تارکین وطن کا تعلق صومالیہ، کوسووو، البانیا اور بوسنیا سے ہے۔ اس شہر کو ایک صنعتی ادارے نے خرید لیا تھا۔ یہ ادارہ اس شہر کو گرا کر وہاں کچھ اور بنانا چاہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس شہر کی زیادہ تر عمارات خالی ہو چکی ہیں اور لوگ نقل مکانی کر کے کہیں اور جا چکے ہیں۔

جب تک مقامی انتظامیہ ان تارکین وطن کے بارے میں اپنی چھان بین مکمل نہیں کر لیتی، یہ لوگ یہیں قیام کریں گے۔ واضح رہے کہ ایسے کیسز کا فیصلہ آنے والے سال تک متوقع نہیں ہے۔

ایک رضا کار ایسرکا کہنا ہے کہ جرمنی میں ایسے لوگوں کی تعداد، جو ان تارکین وطن کی مدد کرنا چاہتے ہیں، ان سے کہیں زیادہ ہے، جو ان کے مخالف ہیں۔ ایسر خود ایسے لوگوں کے لیے فرنیچر،کپڑے اور ضرورت کا دیگر سامان اکٹھا کر رہے ہیں جو لوگ عطیے کے طور پر دے رہے ہیں۔ انہوں نے آنے والے بچوں کے لیے کھیلنے کودنے کے بھی انتظامات کر رکھے ہیں۔

خبررساں ادارے روئٹرز سے بات کرتے ہوئے آئینی تحفظ کے وفاقی جرمن ادارے BfV کے سربراہ ہنس گیورگ ماسان نے کہا کہ پچھلے سالوں کے مقابلے میں اس سال مہاجرین کے ٹھکانوں پر حملوں کی تعداد میں اضا فہ دیکھا گیا ہے اور خدشہ ہے کہ ایسے حملوں میں اضا فہ ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ حملے کرنے والے عناصر یہ کو شش کر رہے ہیں کہ اس کو پھر سے سیاسی مسئلہ بنا دیا جائے۔

جرمنی کی بہت پرانی روایت ہے، ایسے تارکین وطن کو خوش آمدید کہنے کی، یہی وجہ ہےکہ دوسری عالمی جنگ کے بعد جرمنی نے مشرقی یورپ سے آنے والے 13 ملین لوگوں کو اپنے ہاں آباد کیا۔

اٹھارہ سالہ رافائل ماسیمو ان مقامی لوگوں میں سے ایک ہیں جو ابھی بھی اُسی علاقے میں رہتے ہیں، جہاں تارکین وطن مقیم ہیں۔ ماسیمو نے کہا کہ ابھی بھی وہاں بہت سے گھر خالی ہیں اور جو بھی یہاں آ کر رہنا چاہتا ہے، وہ رہ سکتا ہے۔

Deutschland Zentrale Aufnahmestelle für Asylbewerber Berlin

اس سال جرمنی میں آنے والےتارکین وطن کی تعداد ساڑھے چار لاکھ سے تجاوزکر چکی ہے

29 سالہ یوہانیس لامبرٹس ایک بڑھئی ہیں اور انہوں نے اپنے والدین کے خا لی گھر سے فرنیچر عطیے کے طور پر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایسے حالات میں مدد کرنا ہی بہترین حل ہے لیکن اُن کے خیال میں اب مسئلہ یہ ہے کہ یہاں کوئی دوکان باقی نہیں رہی اور ان کو خریداری کرنے کے لیے بس کے ذریعے دور جانا پڑتا ہے۔

برلن میں ایک بزرگ جوڑے نے دو تارکینِ وطن کے اخراجات اٹھانے کا ذمہ لیا ہے۔ ان میں سے ایک کا تعلق افریقی ملک گھانا سے ہے اور اُس کی عمر سینتیس سال ہے۔ دوسرا ایک بیس سالہ لڑکا ہے، جس کا تعلق اف‍غانستان سے ہے۔