جرمنی: مہاجرین کی سالانہ حد دو لاکھ مقرر کرنے پر اتفاق | مہاجرین کا بحران | DW | 13.01.2018
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

جرمنی: مہاجرین کی سالانہ حد دو لاکھ مقرر کرنے پر اتفاق

جرمنی کی دو بڑی سیاسی جماعتوں نے اس بات پر اتفاق کر لیا ہے کہ ملک میں مہاجرین کی سالانہ آمد کی حد دو لاکھ تک محدود کر دی جائے گی۔ یہ نکتہ ممکنہ مخلوط حکومت بنانے والی جماعتوں کی پالیسی دستاویز میں شامل کیا گیا ہے۔

چانسلر میرکل کے قدامت پسند سیاسی اتحاد اور نو منتخب پارلیمان میں دوسری سب سے بڑی جماعت سوشل ڈیموکریٹک پارٹی کے درمیان مخلوط حکومت کے قیام کے لیے طویل مذاکرات کے بعد طے پانے والے نکات پر مشتمل دستاویز کی ایک کاپی خبر رساں ادارے اے ایف پی نے حاصل کی ہے۔

 اس دستاویز کے مطابق جرمنی میں پناہ گزینوں کی سالانہ آمد کی زیادہ سے زیادہ حد  ایک لاکھ اسّی ہزار سے  دو لاکھ بیس ہزار تک محدود کر دی جائے گی۔ اس کے علاوہ  ایسے مہاجرین کے خاندانوں کی ری یونین کے قوانین کو بھی نرم کیا جائے گا جنہیں عارضی پناہ گزین کی حیثیت دے دی گئی ہے تاکہ ان منقسم خاندانوں کا ملاپ آسان ہو سکے۔

معاہدے کے مطابق جرمن پارلیمنٹ سے ایک قانون پاس کرنے کا مطالبہ کیا جائے گا جس کی رُو سے مہاجرین کے خاندانوں کے ایک ہزار افراد کو ماہانہ جرمنی آنے کی اجازت دی جائے گی۔

جرمن چانسلر میرکل ایک طویل عرصے تک اپنی سیاسی جماعت سی ڈی یو کی اتحادی جماعت سی ایس یو کے اس مطالبے کے سامنے مزاحم رہی ہیں کہ جرمنی آنے والے مہاجرین کے لیے کوئی بالائی حد مقرر کی جائے۔

تاہم گزشتہ برس ستمبر میں جرمنی میں منعقدہ پارلیمانی انتخابات میں چانسلر میرکل کی جماعت واضح اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہی تھی اور اسے ماضی کے انتخابات کے مقابلے میں خاصی نشستوں سے محرومی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

 اسی تناظر میں میرکل نے ابتدا میں دو چھوٹی جماعتوں گرین پارٹی اور فری ڈیموکریٹک پارٹی کو ساتھ ملا کر حکومت سازی کی کوشش کی تھی، تاہم اس بابت مذاکرات ناکام رہے تھے۔ لہذا اب چانسلر  میرکل کو مہاجرین کے حوالے اپنی پالیسی میں بھی لچک دکھانا پڑ رہی ہے۔

DW.COM